لاہور۔25نومبر (اے پی پی):پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئر پرسن حنا پرویز بٹ نے کہا کہ صنفی تشدد صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے خاتمے کیلئے ریاست، اداروں اور کمیونٹی کا مشترکہ کردار ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے زیرِ اہتمام ’’ورچوئل وائلنس از ریئل وائلنس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سائبر کرائم آگاہی پروگرام …
صنفی تشددانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے خاتمے کیلئے ریاست، اداروں اور کمیونٹی کا مشترکہ کردار ضروری ہے،حنا پرویز بٹ

مزید خبریں
لاہور۔25نومبر (اے پی پی):پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئر پرسن حنا پرویز بٹ نے کہا کہ صنفی تشدد صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے خاتمے کیلئے ریاست، اداروں اور کمیونٹی کا مشترکہ کردار ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے زیرِ اہتمام ’’ورچوئل وائلنس از ریئل وائلنس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سائبر کرائم آگاہی پروگرام میں کیا، جس میں مختلف کالجز کی طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام میں ڈیجیٹل تشدد، آن لائن ہراسانی اور خواتین کے سائبر تحفظ سے متعلق جامع معلومات فراہم کی گئیں۔
اس موقع پر چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے 16 روزہ انسدادِ صنفی تشدد مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ مہم کا مقصد خواتین اور بچیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے خلاف آگاہی اور تحفظ کو فروغ دینا ہے۔
مہم کے آغاز کے موقع پر چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے کہا کہ صنفی تشدد صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے خاتمے کیلئے ریاست، اداروں اور کمیونٹی کا مشترکہ کردار ضروری ہے۔ انہوں نے اس مہم کو خواتین میں شعور اور فوری سروس ڈیلیوری تک رسائی کو مضبوط بنانے کا اہم قدم قرار دیا.
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے پِنک وین (خواتین کے لیے موبائل پولیس اسٹیشن و لائسنسنگ یونٹ) کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے خواتین پولیس افسران سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بریفنگ لی۔ اس موقع پر سروائیورز کی حوصلہ افزائی، آگاہی لیکچرز اور سائبر کرائم کے خلاف میڈیا کمیونیکیشن مہم کا باضابطہ آغاز بھی کیا گیا۔
حنا پرویز بٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ورچوئل دنیا میں ہونے والا تشدد حقیقی اور تباہ کن اثرات رکھتا ہے، اس لیے خواتین کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور سائبر بلیئنگ سے بچانے کے لیے قانون، ٹیکنالوجی اور شعور تینوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلی کے وژن کے مطابق پِنک وین ایک اہم اقدام ہے جو خواتین کو ان کی دہلیز پر ایف آئی آر اندراج، شکایات، لائسنسنگ اور دیگر پولیس سروسز فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت اپنی پرائیویسی سیٹنگز مضبوط رکھیں اور کسی بھی مشکوک پیغام یا کال سے فورا فاصلہ اختیار کریں۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کلثوم ثاقب نے کہا کہ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی خواتین کے تحفظ کے لیے قانون، موثر سروس ڈیلیوری اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ادارے نے یونیورسٹیوں اور کالجز میں آگاہی مہم کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ نوجوان لڑکیوں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرانزکس علی یزدن نے کہا کہ سائبر کرائم کی سب سے بڑی وجہ لاعلمی اور غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال ہے۔ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کو خبردار کیا کہ پاس ورڈ شیئر کرنا، نامعلوم لنکس کھولنا، ویڈیو کالز ریکارڈ ہونے کا خطرہ، اور ذاتی معلومات اپ لوڈ کرنا ہیکرز کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے ہر قسم کی ڈیجیٹل بلیک میلنگ، فیک آئی ڈیز، واٹس ایپ ہیکنگ اور نجی تصاویر کے غلط استعمال کے خلاف فوری کارروائی کرتی ہے، اس لیے کسی بھی واقعے کی رپورٹنگ میں دیر نہ کی جائے۔ علی یزدن نے خصوصا اس بات پر زور دیا کہ سکرین شاٹس، چیٹ ریکارڈ اور کال لاگز ثبوت کے طور پر محفوظ رکھنا ہر متاثرہ لڑکی کے حق میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔








