اقوام متحدہ ۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن (سی ایس ڈبلیو ) کے ایک اہم اجلاس میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی مضبوط وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نے صرف قانونی اصلاحات تک محدود رہنے کے بجائے امتیازی سلوک کو ایک نظامی رکاوٹ کے طور پر ختم کرنے کی جانب پیش …
صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے میں رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں، پاکستا ن

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن (سی ایس ڈبلیو ) کے ایک اہم اجلاس میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی مضبوط وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نے صرف قانونی اصلاحات تک محدود رہنے کے بجائے امتیازی سلوک کو ایک نظامی رکاوٹ کے طور پر ختم کرنے کی جانب پیش رفت کی ہے۔پاکستانی وفد کی رکن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے وزارتی گول میز اجلاس سے خطاب میں کہا کہ انصاف تک رسائی صرف قوانین کے موجود ہونے سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس وقت جانچی جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ آیا ہر خاتون ان قوانین سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھا سکتی ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں خواتین اور بچیوں کے لیے انصاف کا راستہ صرف قانونی خلا کی وجہ سے نہیں بلکہ گہرے سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی امتیازات کے باعث بھی رکاوٹوں سے بھرا ہے۔
وراثت میں عدم مساوات، نقل و حرکت میں رکاوٹیں، مالیاتی نظام تک محدود رسائی، کام کی جگہ پر ہراسانی، نقصان دہ روایات اور ادارہ جاتی امتیاز جیسے عوامل انصاف کے حصول کو مشکل بناتے ہیں۔سینیٹر بشریٰ بٹ نے بتایا کہ پاکستان نے آئینی مساوات اور وقار کے اصولوں کی بنیاد پر خواتین کی عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کی ہے، جس میں غیرت کے نام پر قتل، جبری شادی، کام کی جگہ پر ہراسانی، گھریلو تشدد اور جنسی جرائم سے متعلق قوانین شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام”جیسے اقدامات نے لاکھوں خواتین کو مالی تحفظ فراہم کیا ہے، جس سے ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ تعلیمی وظائف، ہنر مندی کی تربیت اور ڈیجیٹل شمولیت کے پروگرام خواتین میں حقوق کے بارے میں آگاہی اور اعتماد کو بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی شمولیت کی پالیسیوں، ملازمتوں میں خواتین کے کوٹے، کاروباری معاونت اور سیاست سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کی بڑھتی نمائندگی صنفی مساوات کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے تین سطحوں پر تبدیلی ضروری ہے، اول ایسے قوانین جو تحفظ فراہم کریں، دوم ایسے ادارے جو انصاف فراہم کریں اور سوم ایسا معاشرہ جو خواتین کو بااختیار بنائے۔9 سے 19 مارچ تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں اس سال کا مرکزی موضوع تمام خواتین اور بچیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا اور قانونی نظام کو زیادہ جامع بنانا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دہائیوں کی پیش رفت کے باوجود صنفی عدم مساوات اب بھی دنیا بھر میں گہرائی تک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں صرف 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں اور لاکھوں خواتین و بچیوں کے لیے انصاف اب بھی ایک دور کا خواب ہے۔کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن، جو 1946 میں قائم ہوا تھا، اقوام متحدہ کا مرکزی بین الحکومتی ادارہ ہے جو صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ ہر سال عالمی پیش رفت کا جائزہ لینے اور خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے پالیسی سفارشات تیار کرنے کے لیے حکومتوں اور سول سوسائٹی کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔








