اسلام آباد۔ 22 فروری (اے پی پی):صوبائی سیس اور انفراسٹرکچر فیس سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت پیر 23فروری کو وفاقی ائینی عدالت میں ہوگی وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں صوبائی سیس، انفراسٹرکچر فیس اور ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق درجنوں اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیئے گئے ہیں جن کی سماعت (کل)پیر23 فروری کو ہو گی۔ یہ مقدمات بینچ نمبر ایک کے روبرو سماعت کے لیے مقرر …
صوبائی سیس اور انفراسٹرکچر فیس سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت پیر 23فروری کو وفاقی ائینی عدالت میں ہوگی

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 22 فروری (اے پی پی):صوبائی سیس اور انفراسٹرکچر فیس سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت پیر 23فروری کو وفاقی ائینی عدالت میں ہوگی وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں صوبائی سیس، انفراسٹرکچر فیس اور ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق درجنوں اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیئے گئے ہیں جن کی سماعت (کل)پیر23 فروری کو ہو گی۔ یہ مقدمات بینچ نمبر ایک کے روبرو سماعت کے لیے مقرر کئے گئے ہیں جس کی سربراہی چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کریں گے جبکہ جسٹس علی باقر نجفی بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔ مختلف صنعتی و تجارتی اداروں کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت ہوگی جن میں خیبر پختونخوا میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سامان کی آمد و رفت پر ایک فیصد سیس کا نفاذ آئینی حدود سے تجاوز ہے تاہم پشاور ہائی کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ صوبے آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے سیس اور فیس عائد کرنے کے مجاز ہیں۔ سماعت کے لیے مقرر نمایاں مقدمات میں چشمہ گھی ملز، تاج ویجیٹیبل آئل پروسیسنگ یونٹ، حفیظ اقبال آئل اینڈ گھی انڈسٹریز، گل شہزادہ انٹرپرائزز، وسیم شریف انڈسٹریز، چراٹ پیکیجنگ لمیٹڈ، پان ایشیا فوڈ پراڈکٹس، اتمان گھی انڈسٹری، لکی سیمنٹ لمیٹڈ، لعل آئل اینڈ گھی ملز، پریمیئر شوگر ملز اینڈ ڈسٹلری کمپنی لمیٹڈ، سنٹرونکس لمیٹڈ اور دیگر شامل ہیں۔
کئی مقدمات میں درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا ہے کہ خیبر پختونخوا فنانس ایکٹ 2013 کی دفعہ 94 کے تحت عائد سیس دراصل ٹیکس کے مترادف ہے اور آزاد تجارت کے آئینی حق سے متصادم ہے۔ جبکہ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام صوبائی انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی اور اشیاء کی محفوظ ترسیل کے لیے ضروری ہے۔
سماعت کے لیے مقرر مقدمات کی فہرست میں سندھ حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر فیس کے نفاذ سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں، جن میں انڈس موٹرز کمپنی اور آ ئی سی آ ئی پاکستان لمیٹڈ کی اپیلیں بھی سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ عدالت ان مقدمات میں آئینی شقوں، اٹھارہویں ترمیم کے اثرات، صوبائی قانون سازی کے دائرہ اختیار اور ٹیکس و فیس کے فرق جیسے اہم قانونی نکات کا جائزہ لے گی۔








