لاہور۔21جنوری (اے پی پی):پنجاب ریونیو اتھارٹی کی حالیہ کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت مالی نظم و ضبط، شفافیت اور ٹیکس اصلاحات کو درست سمت میں آگے بڑھا رہی ہے۔ مالی سال 2025 -26 کی پہلی ششماہی میں 33 فیصد اضافے کے ساتھ 149.5 ارب روپے کی وصولیاں پی آر اے کی بڑی کامیابی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مجتبی شجاع الرحمان نے …
صوبائی وزیر خزانہ کا پنجاب ریونیو اتھارٹی ہیڈ آفس کا دورہ،چیئرمین نے پی آر اے کی کارکردگی پر بریفنگ دی

مزید خبریں
لاہور۔21جنوری (اے پی پی):پنجاب ریونیو اتھارٹی کی حالیہ کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت مالی نظم و ضبط، شفافیت اور ٹیکس اصلاحات کو درست سمت میں آگے بڑھا رہی ہے۔ مالی سال 2025 -26 کی پہلی ششماہی میں 33 فیصد اضافے کے ساتھ 149.5 ارب روپے کی وصولیاں پی آر اے کی بڑی کامیابی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مجتبی شجاع الرحمان نے پنجاب ریونیو اتھارٹی ہیڈ آفس دورہ کے موقع پر کیا جہاں انہیں چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی معظم اقبال سپرا نے رواں مالی سال میں پی آر اے کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفننگ دی۔چیئرمین پی آر اے نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ اگر پی آر اے اسی رفتار اور حکمت عملی سے آگے بڑھتا رہا تو مالی سال کے اختتام تک نہ صرف اپنا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا بلکہ ٹیکس وصولیوں میں نئے ریکارڈ بھی قائم کرے گا۔
چیئرمین پی آر اے نے صوبائی وزیر کو مختلف سروس سیکٹرز میں ریونیو بیس میں وسعت کے لیے جاری اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی، جن میں بینکنگ، انشورنس، ریسٹورنٹس، ہوٹلز، پراپرٹی ڈویلپمنٹ، کنسٹرکشن، فرنچائز سروسز، فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز، سٹاک بروکریج اور ٹرانسپورٹیشن جیسے شعبے شامل ہیں۔بریفنگ میں مزیدبتایا گیا کہ ان اقدامات سے اربوں روپے کے اضافی محصولات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمن نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں حکومت کا فوکس نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، نظام کو شفاف بنانے اور ٹیکس چوری کے تمام راستے بند کرنے پر ہے۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی موثر انفورسمنٹ، ڈیٹا بیسڈ مانیٹرنگ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کارکردگی کو مزید بہتر بنائے تاکہ صوبے میں بہترین گورننس کے ساتھ پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر مالی وسائل کا براہِ راست فائدہ عوام کو تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور انفراسٹرکچر کی صورت میں پہنچے گا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط اور خودانحصار پنجاب کی تعمیر ممکن ہے۔
وزیر خزانہ نے پنجاب ریونیو اتھارٹی میں جاری تنظیمی اصلاحات کو بھی سراہا، جن میں لارج ٹیکس پیئر آفس کا قیام، آڈٹ و ویجیلنس ونگز کی تشکیل، نئی بھرتیاں اور سروس رولز میں ترامیم شامل ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پنجاب وفاقی اداروں اور صوبائی محکموں کے ساتھ مکمل تعاون کے ذریعے بقایاجات کی وصولی اور مستقبل کی کمپلائنس کو یقینی بنائے۔








