لاہور۔28ستمبر (اے پی پی )صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے دو سال میں 24 اجلاس منعقد کرکے اہم نوعیت کے 63 بل منظور کیے، 1950 کے شوگر کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کر کے شوگر مافیا کے ہاتھوں سالہا سال سے جاری کسان کے استحصال کے آگے بند باندھ دیا،اب شوگر ملیں وقت پر چلیں گی اورکسان کو گنے کی پوری …
صوبائی وزیر راجہ بشارت کی دو سالہ کارکردگی پر میڈیا کو بریفنگ

مزید خبریں
لاہور۔28ستمبر (اے پی پی )صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے دو سال میں 24 اجلاس منعقد کرکے اہم نوعیت کے 63 بل منظور کیے، 1950 کے شوگر کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کر کے شوگر مافیا کے ہاتھوں سالہا سال سے جاری کسان کے استحصال کے آگے بند باندھ دیا،اب شوگر ملیں وقت پر چلیں گی اورکسان کو گنے کی پوری قیمت وقت پر ملے گی، پنجاب راوی اربن ڈویلپنٹ ایکٹ معاشی اور سماجی لحاظ سے گیم چینجر ثابت ہو گا، پنجاب کا نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرے گا اور اس کے تحت پنجاب حکومت ملکی تاریخ کے سب سے بڑے بلدیاتی انتخابات کرانے جا رہی ہے، یہاں اپنے محکموں کی دو سالہ کارکردگی پر میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ کوآپریٹوز اورجیل خانہ جات کے صدیوں پرانے قوانین کو آپ ڈیٹ کر کے صحیح معنوں میں عوام دوست بنا دیے ہیں،اب پنجاب کوآپریٹوز لیکوڈیشن بورڈ کی کھربوں روپے کی جائدادیں ناجائز قبضوں سے واگذار کرا کے بہتر استعمال میں لائی جا سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سرکاری محکموں کو پابند کیا ہے کہ قانون منظور ہونے کے چھ ماہ کے اندر اپنے رولز بھی بنائیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض محکموں نے 15 سال کے بعد بھی رولز نہیں بنائے۔راجہ بشارت نے کہا کہ پنجاب پولیس، ریسکیو1122 کو نئی گاڑیاں، اضافی فنڈز، الا¶نس اور مراعات دیں، کووڈ 19کے خلاف جدوجہد سمیت تمام حکومتی اقدامات کو وزیر اعلیٰ کے حکم پر قانونی تحفظ فراہم کیا گیا جبکہ پروڈکشن آرڈر کے قانون کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسمبلی میں قانون سازی میں مزید ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے دوران پنجاب بار کونسل سمیت لاہور ہائی کورٹ بار اور ذیلی بارز کو ساڑھے بارہ کروڑ روپے کی مالی امداد دی گئی۔محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ لاہور کے بعد مزید شہروں میں پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔راجہ بشارت نے کہا کہ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی 2016 میں بنی، شہباز شریف خود ہی اس کے چیئرمین بنے اور کوئی کام نہ کیا جبکہ ہم نے خاتون سربراہ مقرر کر کے اس ادارے کو بحال کیا اور متاثرہ خواتین کے لیے کارآمد بنایا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے حکم پر پنجاب کے مختلف محکموں میں 580 آسامیوں پر نابینا ڈیلی ویجرز کی ریگولرائزیشن جاری ہے۔صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے راجہ بشارت نے کہا کہ شہباز شریف اپنی کرپشن کی وجہ سے گرفتار ہوئے،کسی حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں،قوانین پر عملدرآمد کے لیے موثر پالیسی اور مانیٹرنگ سسٹم لا رہے ہیں،باقاعدگی سے اپوزیشن کے ساتھ رابطے میں ہیں، کمیٹیوں کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا،تحفظ بنیاد اسلام بل کو تمام فریقین کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد آگے بڑھایا جائے گا،موٹروے کیس کے ایک مرکزی ملزم پولیس کو گرفتار کر چکی ہے، عابد علی بھی جلد قانون کے نرغے میں ہو گا،پنجاب میں لاءاینڈ آرڈر کو روزانہ مانیٹرنگ کے لیے سمری وزیر اعلیٰ کو بھجوا دی ہے جس سے امن عامہ کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملے گی۔راجہ بشارت نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن ہونے کے باوجود ملک میں سب سے زیادہ قانون سازی کی ہے،اس موقع پرچیئر پرسن ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کنیز فاطمہ، سیکریٹری قانون اور سیکرٹری اطلاعات بھی موجود تھے۔








