ضابطہ فوجداری میں60 سے زیادہ ترامیم لائی جا رہی ہیں،الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات پراپوزیشن کوحکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پرسنجیدہ طرز عمل کامظاہرہ کرنا ہوگا،وزیرمملکت قانون وانصاف کاقومی اسمبلی میں اظہارخیال

وزیرمملکت قانون وانصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں60سے زیادہ ترامیم لائی جارہی ہے،الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات پراپوزیشن کوحکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پرسنجیدہ طرزعمل کامظاہرہ کرنا ہو گا، انصاف کی جلد فراہمی کویقینی بنانے کیلئے اقدامات کے ثمرات نظرآنا شروع ہوگئے ہیں

اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):وزیرمملکت قانون وانصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں60سے زیادہ ترامیم لائی جارہی ہے،الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات پراپوزیشن کوحکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پرسنجیدہ طرزعمل کامظاہرہ کرنا ہو گا، انصاف کی جلد فراہمی کویقینی بنانے کیلئے اقدامات کے ثمرات نظرآنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہفتہ کوقومی اسمبلی میں لازمی اخراجات پربحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کاجواب دیتے ہوئے بیرسٹرعقیل ملک نے کہاکہ آرٹیکل 81اور82میں واضح طورپرکہاگیاہے کہ پبلک فنانس پرپارلیمانی کنٹرول ہوگا،لازمی اخراجات کے حوالہ سے اپوزیشن کے اراکین نے صرف سیاسی تقاریر کی اورسیاسی چورن بیچا ہے،لازمی اخراجات پربحث توہوسکتی ہے مگراس پررائے شماری نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 68 کے تحت کسی جج کے کنڈکٹ کوپارلیمان میں زیربحث نہیں لایا جاسکتا،اپوزیشن اراکین کی جانب سے ججز کانام لیناقابل مذمت اورقابل افسوس ہے۔25کروڑ عوام عدالتوں سے انصاف لے رہی ہے مگران کے تعصب کاپیمانہ الگ ہے، اپوزیشن کے لوگ اپنے رہنما کوآئینی اورقانونی طریقہ کارکے بغیر جیل کے دروازے کھول کر رہا کرنے کو انصاف سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کیا توشہ خانہ کیس میں ان کی اپیل منظور نہیں ہوئی۔ اپوزیشن کو الزام تراشی اور بیجا تنقید سے گریزکرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں پر ان کے امیدوارجیتتے ہیں وہاں پردھاندلی نہیں ہوتی مگرجن حلقوں سے دیگر جماعتوں کے امیداوار کامیاب ہوتے ہیں تو ان کو دھاندلی نظر آتی ہے۔ بیرسٹرعقیل ملک نے کہاکہ بشریٰ بی بی اگر سیاسی خاتون نہیں تو انگوٹھیاں اور ہیرے کے ہار کہاں سے آئے ہیں جس سے ملک کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ہے، تمام کیسز کسی کی خواہش پرنہیں بلکہ قانونی بنیادپربنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قانون کے شعبہ میں اصلاحات ہورہی ہے،انصاف کی جلد فراہمی کیلئے ضابطہ فوجداری میں60 سے زیادہ ترامیم لائی جارہی ہے، اپیلوں کیلئے ای فائلنگ کا نظام متعارف کرایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات پراپوزیشن کوحکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پرسنجیدہ طرز عمل کامظاہرہ کرنا ہوگا، سپریم کورٹ کے 17ججز ہوتے تھے،اس ایوان نے آئینی عدالت قائم کی ہے،ابھی بھی اعلیٰ عدلیہ میں 60 ججز کی نشستیں خالی ہے، عدالتی اصلاحات کے پیش نظراب مخصوص چیمبرز سے نہیں بلکہ میرٹ اور شفافیت پر ججز تعینات ہو رہے ہیں۔ بیرسٹرعقیل ملک نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کوتین چار بار ہسپتال لایاگیا اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئی، کسی ایک شخص کی ذات کانہیں بلکہ ملک اور قوم کیلئے سوچنا چاہئے۔ میثاق جمہوریت کے بعد میثاق پاکستان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 200کے تحت ججز کے تبادلے ہوتے ہیں اورکسی نے اس حوالہ سے شکایت نہیں کی ،انصاف کی جلد فراہمی کویقینی بنانے کیلئے اقدامات کے ثمرات نظرآنا شروع ہوگئے ہیں،آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انشا اللہ لازمی اخراجات میں عدلیہ کیلئے زیادہ فنڈز رکھے جائیں گے۔