اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں رکھنا چاہتی جبکہ عائلی عدالتیں (ترمیمی) بل2019 ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن سید جاوید حسنین نے تحریک پیش کی کہ عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کرنے …
عائلی عدالتیں (ترمیمی) بل2019 ء قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 اپریل (اے پی پی) وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں رکھنا چاہتی جبکہ عائلی عدالتیں (ترمیمی) بل2019 ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن سید جاوید حسنین نے تحریک پیش کی کہ عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں کافی خامیاں ہیں اور کئی چیزیں قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت قرآن و سنت کے متصادم کوئی قانون نہیں رکھنا چاہتی۔ اگر عائلی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں کوئی چیز اس کے خلاف ہے تو اس کو زیربحث لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بل کی کوئی مخالفت نہیں کی۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے تحریک پر رائے لی اور تحریک منظور ہونے پر سید جاوید حسنین نے بل ایوان میں پیش کیا جسے مزید غور کے لئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔








