اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی تجارتی راستوں کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی بندرگاہوں کے لیے بین الاقوامی شپنگ سرگرمیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے اہم مواقع موجود ہیں۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعرات کو وفاقی وزیر کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے میں بدلتی …
عالمی تجارتی راستوں کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی بندرگاہوں کے لیے بین الاقوامی شپنگ سرگرمیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے اہم مواقع موجود ہیں،محمد جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی تجارتی راستوں کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی بندرگاہوں کے لیے بین الاقوامی شپنگ سرگرمیوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے اہم مواقع موجود ہیں۔ وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جمعرات کو وفاقی وزیر کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان کی تجارت، خصوصاً توانائی کے شعبے کو درپیش ابھرتے ہوئے لاجسٹک چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم 11 رکنی کمیٹی کو پاکستان کے بحری تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو دو روز کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہوں میں ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے لیے بین الاقوامی شپنگ لائنز کو متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جس سے نہ صرف بحری شعبے کی پائیدار ترقی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ اس سے ملکی معیشت کو بھی طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے۔ اجلاس میں عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلی اور اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹوں کے تناظر میں پاکستان کے بحری شعبے کو درپیش ممکنہ خطرات اور مواقع کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر جنید چوھدری نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کا مقصد پاکستان کے بحری مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بدلتی عالمی تجارتی صورتحال سے فائدہ اٹھانا ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے عالمی شپنگ کوریڈورز کی ممکنہ بندش سے پیدا ہونے والے مواقع پر بھی غور کیا اور پاکستان کو متبادل ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو متعلقہ قواعد و ضوابط میں ترامیم کی جائیں تاکہ آن ڈاک اور آف ڈاک ٹرمینلز کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کو آسان بنایا جا سکے اور کاروباری سہولت میں اضافہ ہو۔ جنید چوھدری نے خاص طور پر گوادر پورٹ کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر فروغ دینے اور خطے میں ممکنہ عدم استحکام کے متبادل کے طور پر پیش کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے سربراھوں نے بھی زوم کے ذریعے شرکت کی اور بندرگاہوں کی موجودہ آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کنٹینر ٹرانس شپمنٹ، بلک کارگو ہینڈلنگ اور فیولنگ سروسز کے لیے دستیاب گنجائش سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کے ارکان میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وائس ایڈمرل (ر) افتخار احمد راؤ، وزارت بحری امور، تجارت اور پٹرولیم و قدرتی وسائل کے سیکریٹریز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل، ایف بی آر کے ممبر کسٹمز، وزیر اعظم آفس کے ایڈیشنل سیکریٹری اور وزارت تجارت کے سینئر ٹیکنیکل ایڈوائزر شامل ہیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ کمیٹی ابھرتے ہوئے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ٹھوس، قابلِ عمل اور وقت کی پابندی کے ساتھ سفارشات پیش کرے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مربوط منصوبہ بندی اور بروقت پالیسی فیصلوں کے ذریعے پاکستان اپنی بندرگاہوں کو اہم ٹرانس شپمنٹ اور لاجسٹکس مراکز میں تبدیل کر سکتا ہے، جس سے عالمی بحری تجارت میں ملک کا مقام مضبوط ہوگا اور طویل المدتی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے گا۔








