عالمی سطح پر پاکستان کے میراتھن سٹار امین مکاتی کی شاندار پیشرفت

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):کراچی سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ نوجوان رنر امین مکاتی تیزی سے پاکستان کے نمایاں طویل فاصلے کے ایتھلیٹس میں اپنی شناخت مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں 129ویں بوسٹن میراتھن میں شاندار وقت 2 گھنٹے 48 منٹ 47 سیکنڈ کے ساتھ پاکستان کے تیز ترین مرد فنشر کا اعزاز حاصل کیا اور اب ان کا ہدف دنیا کی چھ بڑی میراتھنز …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):کراچی سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ نوجوان رنر امین مکاتی تیزی سے پاکستان کے نمایاں طویل فاصلے کے ایتھلیٹس میں اپنی شناخت مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں 129ویں بوسٹن میراتھن میں شاندار وقت 2 گھنٹے 48 منٹ 47 سیکنڈ کے ساتھ پاکستان کے تیز ترین مرد فنشر کا اعزاز حاصل کیا اور اب ان کا ہدف دنیا کی چھ بڑی میراتھنز مکمل کر کے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنا ہے۔

امین مکاتی نے بچپن میں ہی سٹیج 2 موٹاپے کا سامنا کیا مگر 2016ء میں انہوں نے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں یہ محض صحت بہتر بنانے کی کوشش تھی، جو وقت کے ساتھ ایک جنون میں بدل گئی۔ کووڈ لاک ڈائون کے دوران انہوں نے اپنی تربیت میں مزید سنجیدگی دکھائی اور یہ دورانیہ ان کے پروفیشنل رنر بننے کی بنیاد ثابت ہوا۔

ان کا پہلا بڑا بریک تھرو 2021ء میں استنبول میراتھن میں آیا، جہاں وہ تین گھنٹے سے کم وقت میں دوڑ مکمل کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی بنے (2:59:55)۔تب سے وہ دنیا کی چھ بڑی میراتھنز میں سے تین مکمل کر چکے ہیں، برلن 2023 (2:46:30)، شکاگو 2024 (2:44:32) اور بوسٹن 2025 (2:48:47)۔ ان کی آئندہ منازل لندن (اپریل 2026)، نیویارک (نومبر 2026) اور ٹوکیو (مارچ 2027) ہیں۔

اگر وہ یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہو گئے تو وہ ’’سکس سٹار‘‘ اعزاز مکمل کرنے والے پاکستان کے کم عمر ترین ایتھلیٹ ہوں گے۔امین مکاتی ہر ہفتے 70 سے 80 کلومیٹر دوڑ کی مشق کرتے ہیں جس میں خصوصی ورزش اور سخت غذائی نظم و ضبط شامل ہے۔ وہ اپنی کامیابی کا کریڈٹ Activit اور اس کے سی ای او رضوان آفتاب احمد کو دیتے ہیں جنہوں نے ان کی غذائیت، کارکردگی ٹیسٹ، انجری ریکوری اور مکمل سپانسرشپ میں اہم کردار ادا کیا۔

بوسٹن 2025 میں پاکستان کے 13 رنرز نے چار گھنٹے سے کم وقت میں دوڑ مکمل کی جن کی قیادت مکاتی نے کی۔ اختتامی لکیر عبور کرنے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہارٹ بریک ہل میرا حوصلہ نہیں توڑ سکا، بوسٹن میراتھن نے میری حدوں کو آزمایا، لیکن میں چیلنج پر پورا اترا۔ نوجوان پاکستانیوں کے نام اپنے پیغام میں امین مکاتی نے کہا کہ اپنی صحت پر توجہ دو۔ دوڑنا بہترین ورزش ہے۔ ایک بار شروع کرو، پھر اسے اپنا شوق بنا لو۔ تین عالمی میراتھن مکمل کرنے کے بعد اور تین باقی، امین مکاتی صرف ذاتی کامیابی کے پیچھے نہیں بلکہ پاکستانی ایتھلیٹس کے لیے تاریخ رقم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔