اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عالمی یوم اطفال ہر بچے کے حقوق اور وقار کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس میں حکومت، ادارے، سول سوسائٹی، کمیونٹیز اور خاندان سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو یہاں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال(این سی آر سی) کی جانب …
عالمی یوم اطفال ہر بچے کے حقوق اور وقار کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری کی یاد دہانی ہے، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عالمی یوم اطفال ہر بچے کے حقوق اور وقار کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس میں حکومت، ادارے، سول سوسائٹی، کمیونٹیز اور خاندان سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو یہاں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال(این سی آر سی) کی جانب سے عالمی یوم اطفال 2025 کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے کیا۔
تقریب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، چیئرپرسن این سی آر سی عائشہ رضا فاروق، نمائندہ یونیسف پاکستان پرنیلے آئرن سائڈ کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندگان، سرکاری اہلکار اور ملک بھر سے مدعو کیے گئے تھے۔وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کے اس عزم کو دہرایا کہ ہر بچہ محفوظ، صحت مند، تعلیم یافتہ اور ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ماحول میں بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال کی توثیق ملک کی غیر امتیازی بنیادوں پر بچوں کے تحفظ کے طویل المدتی عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے بچوں کی حمایت اور حفاظت کے نظام میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ہمارے قومی عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ بچوں کو فیصلہ سازی اور سماجی ترقی کے مرکز میں رکھا جائے۔
وفاقی وزیر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بچوں کی زندگیوں پر اب بھی اہم چیلنجز اثر انداز ہو رہے ہیں جن میں تعلیم، صحت، غذائیت، تحفظ اور قانونی شناخت کے مسائل شامل ہیں، ان مسائل کے حل کے لیے مستقل سیاسی ارادہ، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور والدین و کمیونٹیز کی فعال شمولیت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ عالمی یوم اطفال کی مناسبت سے کھڑا ہے اور ہر بچے کو، چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، مساوی مواقع، تحفظ اور ترقی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کو اجاگر کیا اور کہا کہ ملک بھر میں پیدائش کے اندراج کے نظام مضبوط ہوئے ہیں، ضلعی یونٹس برائے بچوں کی حفاظت فعال ہیں، قومی معلوماتی نظام برائے بچوں کی حفاظت نافذ کیا گیا ہے اور 24/7 ہیلپ لائن فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کی پالیسیوں میں پیش رفت، قومی و صوبائی بچوں کی مزدوری کے سروے اور نکاح کی عمر کے قانون میں اقدامات ملک کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات ہر بچے کے حقوق، وقار اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ہمارے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔چیئرپرسن این سی آر سی عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ عالمی یوم اطفال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر بچے کو وقار، مواقع اور تحفظ کے ساتھ بڑھنے کا حق حاصل ہے، ہمارے چائلڈ ایڈوائزری پینل کے ذریعے بچوں کے خیالات اور تجربات کو پالیسی سازی میں شامل کیا جاتا ہے، آج ہم ان کی قیادت اور حوصلے کا جشن مناتے ہوئے تمام اداروں، کمیونٹیز اور خاندانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ بچوں کو قومی ترجیحات کے مرکز میں رکھیں۔
انھوں نے کہا کہ جب ہم بچوں کی سنیں گے تو ہم ایک ایسے پاکستان کے قریب پہنچیں گے جہاں ہر بچہ آزاد اور محفوظ خواب دیکھ سکے۔نمائندہ یونیسف پاکستان پرنیلے آئرن سائڈ نے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ، خوش اور پرامید ماحول میں بڑھنے کا حق حاصل ہے، بہت سے بچے آج بھی معیاری غذا، حفاظت یا سیکھنے کے مواقع سے محروم ہیں اور یہ وہ دنیا نہیں ہے جو انہوں نے چاہی، ہمیں بہتر کرنا ہوگا اور ہم کریں گے، بچوں کی آواز ہماری رہنمائی کرے گی۔
تقریب میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ بچوں کو قومی ترجیحات کے مرکز میں رکھنا ضروری ہے اور حکومت، ادارے، سول سوسائٹی، کمیونٹیز اور خاندانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہر بچہ پاکستان میں محفوظ، معاون اور پر اعتماد ماحول میں بڑھ سکے۔ عالمی یوم اطفال 2025 یاد دہانی ہے کہ آج بچوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔








