عدالتی حکم کے باوجود مستقل نہ کیے جانے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سے رپورٹ طلب

لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود مستقل نہ کیے جانے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو سابقہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرکے ستمبر میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور۔13جولائی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود مستقل نہ کیے جانے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو سابقہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرکے ستمبر میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے بینائی سے محروم ملازم ریحان احمد خان کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نادیہ ثاقب اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل سید عبدالرحمن ہاشمی نے موقف اختیار کیا کہ ریحان احمد خان 2015 میں نائب قاصد بھرتی ہوئے تھے اور لاہور ہائیکورٹ نے 26 جولائی 2019 کو 117 معذور ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم تمام دیگر ملازمین کو مستقل کیے جانے کے باوجود درخواست گزار کو اب تک مستقل نہیں کیا گیا۔سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی ملازمت میں ایک سال کی توسیع دی جا سکتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ محکمہ سابقہ عدالتی فیصلے کے مطابق کارروائی مکمل کرے اور ستمبر میں عملدرآمد رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔