اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کی متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کمیٹی اور امریکی محکمہ تجارت کے کمرشل لا ڈیولپمنٹ پروگرام (سی ایل ڈی پی) کے وفد کے درمیان عدالتی نظام میں عدالت سے منسلک ثالثی کو مؤثر بنانے اور تجارتی تنازعات کے بروقت حل سے متعلق اسٹریٹجک اجلاس منعقد ہواجس میں عدالتی اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا …
عدالت سے منسلک ثالثی کے فروغ کے لیے سپریم کورٹ اور امریکی ادارے کے درمیان اہم مشاورت

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کی متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کمیٹی اور امریکی محکمہ تجارت کے کمرشل لا ڈیولپمنٹ پروگرام (سی ایل ڈی پی) کے وفد کے درمیان عدالتی نظام میں عدالت سے منسلک ثالثی کو مؤثر بنانے اور تجارتی تنازعات کے بروقت حل سے متعلق اسٹریٹجک اجلاس منعقد ہواجس میں عدالتی اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کی صدارت جج سپریم کورٹ جسٹس شاہد وحید نے کی جبکہ اجلاس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران عدالت سے منسلک ثالثی کو عدالتی ترجیح کے طور پر فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، بالخصوص ایسے بڑے تجارتی تنازعات کے مؤثر اور بروقت حل پر زور دیا گیا جن کا براہِ راست تعلق سرمایہ کاروں کے اعتماد اور قومی معیشت سے ہے۔ اے ڈی آر کمیٹی نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی عدلیہ بروقت، قابلِ اعتماد اور کم لاگت تنازعاتی حل کے لیے ادارہ جاتی اے ڈی آر نظام کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
اجلاس میں CLDP کی جانب سے متوقع اے ڈی آر کورسز کی تیاری سے متعلق اقدامات پر بھی غور کیا گیا اور چیف جسٹس آف پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ تعاون کے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔یہ ملاقات سپریم کورٹ کی جانب سے عدالت سے منسلک ثالثی کے فروغ، بین الاقوامی تعاون کے تسلسل، تجارتی انصاف کے معیار میں بہتری، مقدمات کے بوجھ میں کمی اور پاکستان میں ایک مؤثر و جوابدہ تنازعاتی نظام کے قیام کے عزم کی عکاس ہے۔








