اسلام آباد ۔ 19 مارچ (اے پی پی)وفاقی وزیر مذہبی اموروبین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ کورونا وائرس سے بچائو کے لئے احتیاطی تدابیر اپنائیں، شہریوں میں حفظان صحت اور صحت مند طرز عمل کے بارے میں مزید شعور اجاگر کریں۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے کورونا وائرس پر کنٹرول کی کوششوں میں مذہبی …
علماء کرام کورونا وائرس بارے شعور اجاگر کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں’وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 مارچ (اے پی پی)وفاقی وزیر مذہبی اموروبین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ کورونا وائرس سے بچائو کے لئے احتیاطی تدابیر اپنائیں، شہریوں میں حفظان صحت اور صحت مند طرز عمل کے بارے میں مزید شعور اجاگر کریں۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے کورونا وائرس پر کنٹرول کی کوششوں میں مذہبی رہنمائوں کے کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس (کووڈ۔19) کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے شہریوں اور نمازیوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں کورونا وائرس (کووڈ۔ 19) کو پھیلنے سے روکنے کے کئے جسمانی روابط سے گریز کریں اور اچھی حفظان صحت پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت ایمانی جذبے اور خدا کے قریب ہونے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام کورونا وائرس( کووڈ۔19) کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور علماء کرام کا یہ کام قابل تعریف ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور مذہبی اجتماعات سے اجتناب کرنے کے متعلق حکومتی اقدام پر عمل پیرا ہیں۔ نور الحق قادری نے کہا کہ کورونا وائرس کو اتحاد اور سالمیت کے ساتھ ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ نور الحق قادری نے کہا کہ حکومت ہماری نئی نسل کے لئے ایک محفوظ اور صحتمند مستقبل کی خواہاں ہے اور بیداری مہموں میں ہماری مذہبی قیادت کے تعاون سے یہ کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہم علماء کرام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ صفائی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کو پھیلانا چاہیے کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو ہاتھ دھونے کی ترغیب دینی چاہئے اور موجودہ حالات میں معاشرتی اجتماعات سے اجتناب کرنا چاہئے۔نورالحق قادری نے کہا کہ ماسک اور دیگر طبی سامان کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اورحکومت ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی تربیت پر بھی توجہ دے رہی ہے۔








