عوامی لیگ کے بغیر الیکشن نہیں ہونے دیں گے، سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے بیٹے کا بیان

ڈھاکہ۔17نومبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوامی لیگ سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو عوامی لیگ کے حامی فروری میں انتخابات نہیں ہونے دیں گے اور احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔اردو نیوز کے مطابق واشنگٹن میں مقیم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد کا یہ بیان ڈھاکہ کی عدالت کے فیصلے …

ڈھاکہ۔17نومبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے اور مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر عوامی لیگ سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو عوامی لیگ کے حامی فروری میں انتخابات نہیں ہونے دیں گے اور احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔اردو نیوز کے مطابق واشنگٹن میں مقیم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد کا یہ بیان ڈھاکہ کی عدالت کے فیصلے سے ایک روز قبل سامنے آیا جس میں 78 سالہ حسینہ واجد کو 2024 میں طلبہ کے مظاہروں پر کریک ڈاؤن اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں عدم حاضری پر سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔سجیب واجب نے کہا کہ بھارت ان کی والدہ کو مکمل تحفظ فراہم کر رہا ہے اور ان کے ساتھ سربراہ مملکت جیسا برتائو کر رہا ہے۔

سجیب واجد نے کہا کہ ہو سکتا ہے بنگلہ دیشی عدالت ان کی والدہ کو مجرم قرار دے یا ان کو سزائے موت سنا دیے لیکن وہ عملاً ان کے ساتھ کچھ نہیں کر سکتے کیو نکہ ان کی والدہ اس وقت بھارت میں ہیں جہاں ان کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔سجیب واجد نے کہا کہ وہ اس وقت تک اپیل نہیں کریں گے جب تک منتخب حکومت جمہوری طور پر عوامی لیگ کی شمولیت سے حکومت نہیں سنبھال لیتی۔ عوامی لیگ کی رجسٹریشن مئی میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب عبوری حکومت نے قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور سینئر قیادت پر جنگی جرائم کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔

سجیب واجد نے کہا کہ ہم عوامی لیگ کے بغیر الیکشن نہیں ہونے دیں گے، ہمارا احتجاج مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے، جب تک عالمی برادری کچھ نہیں کرتی ہمیں جو بھی کرنا پڑے ہم کریں گے۔ انتخاب سے قبل تشدد اور تصادم ہو سکتا ہے۔دوسری جانب حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ سے پابندی ہٹائے جانے کا کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے۔ترجمان کے مطابق عبوری حکومت کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، خصوصاً جلاوطن قیادت کی جانب سے کیے گئے اقدام کو انتہائی غیرذمہ دارانہ اور قابل مذمت سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت عوامی لیگ کے لیے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے دور میں انسانیت کے خلاف کیے گئے جرائم پر پشیمانی اور احتسابی عمل سے انکار کر رہی ہے جن میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کے تحت مقدمہ بھی شامل ہے ۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 15 جولائی سے پانچ اگست کے درمیان حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں 1400افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ان واقعات کو بنگلہ دیش کی 1971 کی آزادی کی جنگ کے بعد اب تک کے بدترین سیاسی تشدد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔17 کروڑ آبادی کا ملک بنگلہ دیش دنیا کے سب سے بڑے گارمنٹس کے ایکسپورٹرز میں سے ایک ہے جو بڑے عالمی برانڈز کو سامان سپلائی کرتا ہے۔گزشتہ سال ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے اس صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔حسینہ واجد اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت چلی گئی تھیں اور اب دہلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

 

مزید خبریں