اسلام آباد ۔۔ 24 اپریل (اے پی پی) نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے وزیراعظم عمران خان کے کورونا وائرس امدادی فنڈ کے لئے ٹیلی تھون شروع کرنے کو سراہا۔ جمعہ کوپی ٹی وی نیوز چینل سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت کی مدد کے لئے لوگوں سے چندہ وصول کرنے کے لئے …
عوام وزیر اعظم کورونا ریلیف فنڈ میں فراخ دلی سے عطیات دیں، نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامدکی پی ٹی وی نیوز چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔۔ 24 اپریل (اے پی پی) نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے وزیراعظم عمران خان کے کورونا وائرس امدادی فنڈ کے لئے ٹیلی تھون شروع کرنے کو سراہا۔ جمعہ کوپی ٹی وی نیوز چینل سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت کی مدد کے لئے لوگوں سے چندہ وصول کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس امدادی فنڈ قائم کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ قوم نے وزیر اعظم عمران خان پر بڑے اعتماد کا اظہار کیا اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس امدادی فنڈ میں بڑھ چڑھ کر چندہ دیا انہوں نے قوم سے مزید عطیات دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام پورے دل جوئی سے وزیر اعظم عمران خان کے امدادی فنڈ میں حصہ ڈالیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ عوام کی مدد اور تعاون سے حکومت کورونا وائرس کے مشترکہ دشمن کے خلاف اس جنگ میں کامیاب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کووڈ۔19 نے ہماری معیشت اور دیگر ممالک کی معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور شفافیت کو بھی یقینی بنارہی ہے۔ ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کوروناوائرس سے متاثرہ شخص کے بارے میںمتعلقہ حکام کو آگاہ کریں اور لوگ اس بیماری کو چھپانے کی کوشش نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو کورونا وائرس وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے کافی وسائل کی ضرورت ہے اور لوگو ں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گھروں میں رہیںاور محفوظ رہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے کے تباہ حال طبقات سے بھی وابستہ ہیںجو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ، لوگوں کو اس مرض سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ اس مرض سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اختیاط علاج سے بہتر ہے اوراحتیاطی تدابیر اور اقدامات پر عمل کرنا ضروری ہیں،بار بار ہاتھ دھوئیں ، سینیٹائزر اور ماسک کا استعمال کریں ، سماجی دوری برقراررکھیںاور اگر کوئی علامات محسوس ہوں تو تنہائی اختیارکریں۔








