عیدالاضحیٰ کے بعد ہلکی اور متوازن غذا کا استعمال ضروری، ماہرین صحت کی ہدایت

ماہرینِ صحت نے عیدالاضحیٰ کے اختتام کے بعد شہریوں کو کھانے پینے میں اعتدال اختیار کرنے، زیادہ پانی پینے اور ہلکی و متوازن غذا استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عید کے دوران گوشت اور مرغن غذاؤں کے زیادہ استعمال سے معدے اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد۔29مئی (اے پی پی):ماہرینِ صحت نے عیدالاضحیٰ کے اختتام کے بعد شہریوں کو کھانے پینے میں اعتدال اختیار کرنے، زیادہ پانی پینے اور ہلکی و متوازن غذا استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عید کے دوران گوشت اور مرغن غذاؤں کے زیادہ استعمال سے معدے اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ معروف طبی ماہر ڈاکٹر فاطمہ عابد نے الیکٹرانک میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے بعد خصوصاً گوشت پکاتے وقت زیادہ مصالحے اور تیل کے استعمال سے گریز کیا جائے کیونکہ بھاری اور مرغن کھانے نظامِ ہاضمہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر خاندانی دعوتوں اور اجتماعات میں زیادہ مصالحہ دار اور چکنائی سے بھرپور کھانے معدے میں تیزابیت، بدہضمی اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے کھانے میں سادگی اور توازن کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر فاطمہ عابد نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور ہاضمہ بہتر رہے، خاص طور پر عید کے بعد جاری خاندانی ملاقاتوں اور تقریبات کے دوران۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگ کھانے میں اعتدال اختیار کریں اور معدے پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے سے بچیں۔ ان کے مطابق کم مقدار میں اور وقفے وقفے سے کھانا کھانے سے ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ ممکن ہے۔ ماہرِ صحت نے مزید کہا کہ متوازن غذا، کم تیل والی اشیاء اور ہلکے کھانوں کا استعمال معدے کی خرابی اور دیگر پیچیدگیوں کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فاطمہ عابد نے قربانی کے گوشت کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ہدایت کی کہ فریز کیا گیا گوشت دو روز کے اندر استعمال کر لیا جائے اور اسے طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ صحت کے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب غذائی احتیاط، اعتدال اور پانی کا زیادہ استعمال عیدالاضحیٰ کے بعد اچھی صحت برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

مزید خبریں