اسلام آباد۔23مارچ (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں عید کےتیسرے روز بھی روایتی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ، شہریوں کی بڑی تعداد نے اہلخانہ کے ہمراہ رشتہ داروں کے گھروں اور شہر کے تفریحی مقامات کا رخ کیا اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ عید کا پہلا دن زیادہ تر قریبی خاندانوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور دوسرا دن دوست احباب جبکہ تیسرا دن تفریح کیلئے مختص …
عیدالفطر کا تیسرا روز ،شہریوں نے خوب سیر کی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23مارچ (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں عید کےتیسرے روز بھی روایتی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ، شہریوں کی بڑی تعداد نے اہلخانہ کے ہمراہ رشتہ داروں کے گھروں اور شہر کے تفریحی مقامات کا رخ کیا اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ عید کا پہلا دن زیادہ تر قریبی خاندانوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور دوسرا دن دوست احباب جبکہ تیسرا دن تفریح کیلئے مختص ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے رہائشیوں کی بڑی تعداد نے پارکوں، ریستورانوں اور پکنک مقامات کا بھی رخ کیا اور عید کی خوشیاں منائیں ۔ بہت سے خاندانوں نے تیسرا دن رشتہ داروں سے ملنے میں گزارا ۔
انہوں نے عید کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور روایتی کھانوں سے ضیافت کی۔ عید سے جڑے یکجہتی اور مہمان نوازی کے جوہر کو زندہ رکھتے ہوئے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہنے سے گھروں میں مصروفیت رہی۔ خاندانی ملاقاتوں کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد، خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں نے تفریحی مقامات کا رخ کیا۔
عوامی پارکوں میں سیاحوں کی خاصی تعداد دیکھنے میں آئی، خاندان خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے جبکہ بچوں نے مختلف تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ دارالحکومت بھر کے ریستورانوں اور کھانے پینے کی جگہوں پر بھی صارفین کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ، لوگ دوستوں اور اہل خانہ کے ہمراہ انواع و اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کھانے پینے کی دکانوں پر بھی رش دیکھا گیا ۔
اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری علی نے کہا کہ دو دن کے خاندانی اجتماعات کے بعد تیسرا دن عام طور پر دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے رات کے کھانے اور لیک ویو پارک کے دورے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایک سیاح آئزہ جو ایک گھریلو خاتون ہیں، انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ میں نے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ تفریحی مقام کا دورہ کیا کیونکہ بچوں کو گھر میں رہنے سے زیادہ باہر جانے کا مزہ آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صبح کے وقت رشتہ دار اور دوست عید کی مبارکباد دینے کے لیے ہمارے گھر آتے ہیں جن کیلئےمیں نے شیر خرما اور دیگر روایتی پکوان تیار کیے تھے۔ اب خاندان کا وقت ہے اور بچے بھی اپنی اپنی پسند کے کھانے کھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے اجتماعات اور پارٹیوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود، شہری تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے، عید کی ثقافتی اہمیت کی مناسبت سے خوشیاں بھی بانٹتے نظر آئے۔
دریں اثنا شہریوں کا ایک مستقل سلسلہ آبائی قصبوں میں اہل خانہ کے ساتھ عید منانے کے بعد وفاقی دارالحکومت کی طرف لوٹنا شروع ہو گیا ہے۔ عید کے بعد شہریوں کی واپسی سے اہم داخلی مقامات، بس ٹرمینلز اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ٹرانسپورٹ ٹرمینلز پر کافی رش دیکھنے میں آیا کیونکہ مسافر بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے واپس آ رہے ہیں۔
کئی افراد نجی گاڑیوں میں بھی وفاقی دارالحکومت کی طرف روانہ ہیں۔ عید کی تعطیلات سے واپس آنے والے خاندان تحائف، کھانے کی روایتی اشیاء اور قیمتی یادیں لے کر واپس آ رہے ہیں۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر صادق نے کہا کہ گاؤں میں عید کی اپنا ہی رونق ہے، رشتہ داروں سے ملنا، روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہونا اور فیملی کے ساتھ معیاری وقت گزارنا بڑا اچھا لگا لیکن اب کام پر واپس جانے کا وقت ہے۔
ساہیوال سے آنے والے ایک اور مہمان مناہل نے اے پی پی کو بتایا کہ جہاں واپسی کا سفر اکثر بھاری ٹریفک اور پرہجوم ٹرانسپورٹ کی وجہ سے تھکا دینے والا ہوتا ہے، وہیں اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کا موقع اسے خوشگوار بناتا ہے۔حکام نے مسافروں کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے انتظامات کیے ہیں، جس سے دارالحکومت اور اس کے اطراف میں ہموار ٹریفک اور ٹرانسپورٹ آپریشنز کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔








