ریاض۔28جنوری (اے پی پی):سعودی عرب کی کابینہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت اجلاس میں علاقائی اور عالمی سطح پر جاری تازہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب غزہ میں امن کونسل کے مشن کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ العربیہ اردو نے سعودی کابینہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امن کونسل ایک عبوری ادارے کے طور …
غزہ میں امن کونسل کے مشن کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے،سعودی کابینہ
ریاض۔28جنوری (اے پی پی):سعودی عرب کی کابینہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت اجلاس میں علاقائی اور عالمی سطح پر جاری تازہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب غزہ میں امن کونسل کے مشن کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ العربیہ اردو نے سعودی کابینہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ امن کونسل ایک عبوری ادارے کے طور پر غزہ میں تنازعے کے خاتمے اور تعمیرِ نو کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کی جا رہی ہے تاکہ خطے اور اس کے عوام کے لیے امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو۔ کابینہ کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ کی جانب سے ایک مکتوب موصول ہوا ہے جو دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات سے متعلق ہے۔
سعودی کابینہ نے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس ڈیووس میں سعودی وفد کی شرکت کو سراہا جس میں سعودی عرب کے ویژن 2030 کے اہداف میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔ کابینہ نے بتایا کہ ان اقدامات اور عالمی معیشت کے مستقبل کی تشکیل میں معاون منصوبوں نے بین الاقوامی مکالمے اور کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دیا جو عالمی سطح پر استحکام اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ کابینہ نے 22 اور 23 اپریل کو سعودی عرب میں عالمی اقتصادی فورم کے تعاون اور ترقی سے متعلق بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ اقدام اقتصادی استحکام کے فروغ اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا تاکہ مشترکہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں کابینہ نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کی سرپرستی میں ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی لیبر مارکیٹ کانفرنس کے تیسرے ایڈیشن کو سراہا جس میں دنیا بھر کے ممالک اور اداروں کی اعلیٰ سطحی شرکت رہی۔ کابینہ نے افرادی قوت کو بااختیار بنانے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال اور پائیدار نظام کی تشکیل سے متعلق معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی تعریف کی جو مقامی اور عالمی سطح پر ترقی کے ضامن ہیں۔ کابینہ نے مرکزِ شاہ سلمان برائے امداد اور انسانی خدمات کی جانب سے 2026 کے لئے منصوبے کے اجرا کو بھی سراہا جس کے تحت دنیا بھر میں 422 انسانی منصوبے نافذ کیے جائیں گے۔
کابینہ کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی کے میدان میں سعودی عرب کی عالمی قیادت کو مزید مضبوط کرتا ہے اور اسلامی اقدار پر مبنی امدادی مشن کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ کابینہ نے مملکت کے مختلف علاقوں میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق رپورٹس کا بھی جائزہ لیا بالخصوص بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہریوں رہائشیوں اور زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کابینہ نے بتایا کہ ہاؤسنگ پروگرام کے تحت شہریوں میں گھروں کی ملکیت کی شرح 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 66.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک ملین سے زائد افراد رہائشی معاونت سے مستفید ہو چکے ہیں جو اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح کا عکاس ہے۔
سعودی کابینہ نے اس امر کی تصدیق کی کہ 700 سے زائد عالمی کمپنیوں کا سعودی عرب کو اپنا علاقائی صدر دفتر بنانا مملکت میں بنیادی ڈھانچے، تکنیکی سہولیات اور کاروباری ماحول میں ہونے والی نمایاں بہتری کی علامت ہے اور یہ سعودی معیشت کی کشش اور روشن مستقبل کو ظاہر کرتا ہے۔
کابینہ نے ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی نئی توسیع اور الجوف بین الاقوامی ہوائی اڈے کے افتتاح کو ہوائی رابطوں کے فروغ مسافروں کے تجربے میں بہتری اور اقتصادی و ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے اہم قرار دیا جو قومی نقل و حمل اور لاجسٹک حکمتِ عملی اور وژن سعودی عرب 2030 کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر سعودی کابینہ نے نظامِ حقوقِ مصنف کی منظوری دی جبکہ سعودی عرب اور مراکش کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی تحفظ سے متعلق معاہدے کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی۔









