غزہ میں انسانی امدادی کارکنوں کو بلا روک ٹوک کام کی اجازت دی جائے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔3اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ سٹی میں انسانی امدادی کارکنوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، کیونکہ کئی بین الاقوامی تنظیمیں وہاں اپنا کام معطل کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جبری انخلاء …

اقوام متحدہ ۔3اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ سٹی میں انسانی امدادی کارکنوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، کیونکہ کئی بین الاقوامی تنظیمیں وہاں اپنا کام معطل کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جبری انخلاء کے احکامات جاری کیے جانے کے باوجود، بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت فریقین کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں، کیونکہ غزہ سٹی میں اب بھی بڑی تعداد میں عام شہری موجود ہیں جنہیں تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

"ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز” نے 26 ستمبر کو غزہ سٹی میں اپنے آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جب کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے بھی بدھ کے روز عارضی طور پر اپنے کام روک کر عملے کو جنوبی غزہ منتقل کر دیا۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (یواین آر ڈبلیو اے ) کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 543 امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں یواین آر ڈبلیو اے کے 304کے ملازمین شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (ای سی ایچ سے ) کے مطابق، اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں کی جانب سے غزہ کے شمالی علاقوں میں ممکنہ حد تک کام جاری رکھا گیا ہے۔

جمعرات کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ ایندھن شمالی علاقے منتقل کیا گیا تاکہ اہم تنصیبات کو فعال رکھا جا سکے۔اوسی ایچ اے نے بتایا کہ شمالی غزہ سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صرف بدھ کے روز 10 گھنٹوں میں 6,700 افراد کو جنوب کی جانب نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اگست کے وسط سے اب تک 4 لاکھ 17 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ادارے کے مطابق، وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں بھی حالیہ دنوں میں شدید بمباری کی اطلاعات ملی ہیں، حالانکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں شہریوں کو منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

"یہاں خیمے، مکانات اور ایک مصروف مارکیٹ تک نشانہ بنی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔جنوبی غزہ میں بے گھر خاندان یا تو گنجان عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں یا ساحلی علاقوں میں خیموں میں رہ رہے ہیں۔ کئی لوگ کھلے آسمان تلے ملبے کے درمیان سونے پر مجبور ہیں۔ نئے آنے والوں کو نہ صرف حفظانِ صحت کے ناقص حالات، بلکہ پرائیویسی اور تحفظ کی عدم فراہمی، بچوں کے والدین سے بچھڑنے کے خطرات، اور بارودی مواد کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔

ادارے کے مطابق خاندان اپنے ضروری سامان بیچ کر نقل مکانی کے لیے کرایہ ادا کر رہے ہیں۔ جو یہ خرچ نہیں اٹھا سکتے، وہ پیدل سفر پر مجبور ہیں، جو معذور یا بزرگ افراد کے لیے انتہائی مشکل ہے۔اقوام متحدہ اور شراکت دار ادارے جنوبی غزہ میں طبی خدمات کو وسعت دینے اور پناہ گاہوں کی بحالی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

مزید خبریں