جنیوا۔10دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے دو ماہ بعد بھی ہزاروں فلسطینی بچے بدترین غذائی قلت کا سامنا ہے۔ العربیہ کے مطابق یونیسف نے گزشتہ روز بیان میں بتایا ہے کہ غزہ میں 10 اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے باوجود ابھی تک غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امداد با آسانی دیگر فلسطینیوں کے ساتھ …
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود ہزارو ں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، یونیسف

مزید خبریں
جنیوا۔10دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے دو ماہ بعد بھی ہزاروں فلسطینی بچے بدترین غذائی قلت کا سامنا ہے۔ العربیہ کے مطابق یونیسف نے گزشتہ روز بیان میں بتایا ہے کہ غزہ میں 10 اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے باوجود ابھی تک غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امداد با آسانی دیگر فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ بچوں تک پہنچنا بھی ممکن نہیں ہو سکاجس کے باعث ہزاروں فلسطینی بچوں کو بدترین غذائی قلت کا سامنا ہے ۔
یونیسف کے مطابق اب تک 9300 ایسے فلسطینی بچوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے جو غذائی قلت کی وجہ سے سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو چکے تھے اور یہ صورتحال 10 اکتوبر کو شروع کی گئی جنگ بندی کے بعد پہلے مرحلے میں دیکھی گئی۔تاہم اگست تک یہ تعداد 14 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ اب بھی یہ کافی نمایاں تعداد ہے۔ تاہم رواں سال فروری اور مارچ کے دوران ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوراک کی ترسیل اور امداد کی فراہمی ضرورت کے مطابق کم ہے۔یونیسف کی ترجمان ٹیس انگرام نے جنیوا میں وڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی غزہ کے فلسطینی بچوں کی حالت زار بہت اونچے اعداد و شمار کے ساتھ ہے۔
حالیہ مہینوں میں جن بچوں کو غذائی قلت کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخل کرانا پڑا یہ تعداد فروری کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ نومولود بچوں کا وزن بھی انتہائی کم ہونا غذائی قلت کا نتیجہ ہے جس کا سامنا ان کی ماؤں کو بھی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر نومولود بچوں کے وزن کے معیار سے انتہائی کم وزن کے بچوں کی غزہ میں پیدائش کے واقعات اور انتہائی دبلے بلکہ لاغر ہونے کے واقعات بہت تکلیف دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی ترسیل میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے۔ تاہم ہمارا اب بھی یہ مطالبہ ہے کہ غزہ کے لئے امداد و خوراک پہنچانے والی راہداریوں کو زیادہ کھولا جائے ۔ یاد رہے کہ اگست میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں تقریبا پانچ لاکھ لوگ قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ خواتین اور بچے اس بھوک و قحط کا شکار ہیں۔








