غزہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے باعث پناہ گاہوں میں مقیم فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ۔11دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر آفس فار دا کورآڈینیشن اینڈ ہیومینیٹیرین افیئرز (او سی ایچ اے)نے کہا ہے کہ غزہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے باعث کم درجہ حرارت اور بارشیں نومولود بچوں اور دیگر کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہیں۔غزہ میں اسرائیل کی 2 سال سے جاری جنگ کے بعد غزہ کے تقریباً 20 لاکھ …

اقوام متحدہ۔11دسمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر آفس فار دا کورآڈینیشن اینڈ ہیومینیٹیرین افیئرز (او سی ایچ اے)نے کہا ہے کہ غزہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے باعث کم درجہ حرارت اور بارشیں نومولود بچوں اور دیگر کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہیں۔غزہ میں اسرائیل کی 2 سال سے جاری جنگ کے بعد غزہ کے تقریباً 20 لاکھ باشندوں میں سے زیادہ تر عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

او سی ایچ اےکے مطابق انسانی امدادی کارکن سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں ہنگامی امداد پہنچا رہے ہیں جبکہ بچوں کے لئے گرم کپڑوں کی تقسیم کو یومیہ 5,000 کٹس سے بڑھا کر 8,000 تک کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے کے شراکت دار اداروں نے بتایا ہے کہ تقریباً 200 خاندان ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کر کے مشرقی خان یونس میں حمد سٹی کے باقی ماندہ حصے میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اسی دوران خاندانوں کو ہنگامی طور پر ٹینٹ، ترپال ، بستر کی چادریں اور گرم کپڑے فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سیلاب سے بچاؤ کے لئے ریت کی بوریوں سے خطرناک علاقوں کو مضبوط ، نکاسی آب کے نالے صاف اور کوڑا کرکٹ بھی ہٹایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ 65 کلاس رومز کو، جو پہلے بے گھر لوگوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے، صاف کر کے دوبارہ تدریسی سرگرمیوں کے لیے تیار کر دیا گیا ہے۔ او سی ایچ اے نے کہا کہ تاہم شراکت داروں نے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی مواد غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے جس سے بچوں کی تعلیم کی بحالی کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے بتایا کہ رواں ماہ اب تک 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو باقاعدہ خوراک کی امداد فراہم کی گئی ہےجس میں دو فوڈ پارسلز اور 20 کلو آٹے کا تھیلا شامل ہےجو پورے غزہ میں 60 مراکز کے ذریعے تقسیم کی گئی۔اگست کے بعد پہلی مرتبہ 3,500 ویٹرنری کٹس غزہ میں داخل ہوئیں، جنہیں 100 سے زیادہ چرواہوں اور گدھا گاڑی مالکان میں تقسیم کیا گیا، جو غذائی تحفظ میں جانوروں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔او سی ایچ اے نے خبردار کیا کہ غزہ میں سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے جس کے باعث شہریوں کے ساتھ ساتھ امدادی کارکن بھی خطرے میں ہیں۔

منگل کو دیر البلاح میں یو این آر ڈبلیو اے کے ہیلتھ سینٹر کی نچلی منزل پر فائرنگ کی گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ عمارت اسرائیل کی سرحد کے قریب ’’یلو لائن‘‘ کے علاقے میں واقع ہے۔اقوامِ متحدہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ عالمی عطیہ دہندگان نے اس وقت تک 300 ملین ڈالر سے کچھ زیادہ رقم کا وعدہ کیا ہے، جو سینٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ (CERF) کے لئے ہےیہ فنڈ بحران میں پھنسے لاکھوں افراد کے لیے اولین لائف لائن کے طور پر کام کرتا ہے۔سنٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ (CERF) میں عطیات منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک عہد سازی کی تقریب کے دوران کئے گئیں۔

یو این کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مکمل فنڈنگ یعنی سالانہ ایک ارب ڈالر کوئی علامتی ہدف نہیں بلکہ فوری ضرورت ہے۔گزشتہ سال وعدے 351 ملین ڈالر تک وعدے کئے گئےتھے، لیکن رواں سال کمی امدادی ایجنسیوں کی بگڑتی مالی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔سینٹرل ایمرجنسی رسپانس فنڈ گزشتہ 20 سال میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک کو تقریباً 10 ارب ڈالر کی امداد فراہم کر چکا ہے جبکہ صرف رواں سال 435 ملین ڈالر کی امداد 30 ممالک میں تقسیم کی گئی۔