غزہ۔10جنوری (اے پی پی):جرمن ریڈ کراس نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے باسیوں کی پہلے ہی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال سردیوں کے موسم میں مزید خراب ہو گئی ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق جرمن ریڈ کراس کے صدر ہیرمان گروہے نے جرمن اخبار رائنشے پوسٹ سے گفتگو میں کہا کہ سپلائی کی خراب صورتحال کے ساتھ سردیوں کے مہینے خاص طور پر بچوں، زخمیوں اور بزرگوں کے لیے …
غزہ میں شدید سردی نے انسانی بحران کی سنگینی میں اضافہ کردیا ہے، جرمن ریڈ کراس

مزید خبریں
غزہ۔10جنوری (اے پی پی):جرمن ریڈ کراس نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے باسیوں کی پہلے ہی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال سردیوں کے موسم میں مزید خراب ہو گئی ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق جرمن ریڈ کراس کے صدر ہیرمان گروہے نے جرمن اخبار رائنشے پوسٹ سے گفتگو میں کہا کہ سپلائی کی خراب صورتحال کے ساتھ سردیوں کے مہینے خاص طور پر بچوں، زخمیوں اور بزرگوں کے لیے نہایت خوفناک ثابت ہو رہے ہیں۔
ہیرمان گروہے نے غزہ میں خوراک کی شدید قلت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی ہر چیز کی کمی ہے، مناسب خوراک ، طبی سامان، ادویات، بجلی اور پانی سب نایاب ہیں۔جرمنی کے سابق وزیر صحت نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد مجموعی طور پر انسانی امداد میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم غزہ پٹی تک پہنچنے والی امدادکی مقدار اب بھی ناکافی ہے کیونکہ روزانہ 600 ٹرک داخل کرنے کا مطلوبہ ہدف پورا نہیں ہو پا رہا۔
ادھر تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق غزہ پٹی میں ناکافی طبی دیکھ بھال سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرسچین کاٹسر نے اخبار کو بتایا کہ بہت سے فلسطینی ایسی بیماریوں سے جان کی بازی ہار رہے ہیں جن کا علاج ممکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو علاج کے لیے جرمنی منتقل کرنے کی کوششیں داخلے کے سخت قوانین کے باعث ناکام ہو رہی ہیں۔ جمعے کو شدید بارشوں اور تیز ہواؤں سے غزہ پٹی میں قائم نئے اور کمزور کیمپوں کے کچھ حصے تباہ ہو گئے جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے باعث لاکھوں بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں۔
غزہ بلدیہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ بارش سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے اور جمع شدہ پانی کی نکاسی کے لیے دن رات کام کر رہی ہے، تاہم ضروری آلات کی کمی درپیش ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے دوران فلسطینی علاقے میں تین چوتھائی سے زیادہ عمارتیں تباہ کر دی گئی ہیں اور اندازہ ہے کہ زیادہ تر آبادی کم از کم ایک بار نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے، اب بھی لاکھوں افراد غیر محفوظ مقامات پر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ دسمبر کے اوائل میں آنے والے طوفان کے باعث خیموں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
دسمبر کے دوران غزہ میں طوفان اور آندھی سے لگ بھگ 65 ہزار گھرانے متاثر ہوئے اور بعض کیمپ پانی میں ڈوب گئے۔غیر سرکاری تنظیموں نے غزہ میں امداد کی ترسیل میں مشکلات کے باعث صورتحال کے مزید بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیا جن کی وجہ اسرائیلی پابندیاں بتائی جا رہی ہیں۔








