وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نےکہا ہے کہ5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی اور انسانی پہلوؤں کو بھی مزید نمایاں کر دیا، میں حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے جموں و …
پاکستان کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر مناسب بین الاقوامی فورم پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، وفاقی وزیر برائے قانون

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نےکہا ہے کہ5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی اور انسانی پہلوؤں کو بھی مزید نمایاں کر دیا، میں حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔
اگست یوم استحصال کشمیر کے موقع جاری پیغام میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے مشکلات، غیر یقینی صورتحال اور اپنے بنیادی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی امن، انصاف اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی خواہشات عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے میرا پختہ یقین ہے کہ انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، ہر فرد کو بلاامتیاز عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر مناسب بین الاقوامی فورم پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔آئیے، یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ہم انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں اور دعا کریں کہ وہ دن جلد آئے جب جموں و کشمیر کے عوام امن، آزادی اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔







