چہلم حضرت امام حسینؓ کے جلوس سخت سکیورٹی انتظامات میں پرامن طور پر اختتام پذیر

ملک بھر کی طرح راولپنڈی میں بھی حضرت امام حسینؓ کا چہلم مذہبی عقیدت، احترام کے ساتھ منایا گیا، جہاں مرکزی جلوس سمیت تمام مجالس اور عزاداری کے اجتماعات انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کے حصار میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات گئے پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔

راولپنڈی۔5اگست (اے پی پی):ملک بھر کی طرح راولپنڈی میں بھی حضرت امام حسینؓ کا چہلم مذہبی عقیدت، احترام کے ساتھ منایا گیا، جہاں مرکزی جلوس سمیت تمام مجالس اور عزاداری کے اجتماعات انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کے حصار میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات گئے پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔

مرکزی جلوس امام بارگاہ یادگار حسین سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی و مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا قدیمی امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی اور حضرت امام حسینؓ، اہل بیت اطہارؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ضلع بھر کی امام بارگاہوں اور مساجد میں مجالس عزا منعقد ہوئیں جن سے علمائے کرام اور ذاکرین نے خطاب کرتے ہوئے واقعہ کربلا کی ابدی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ، اہل بیت اطہارؓ اور شہدائے کربلا کی قربانیاں حق، انصاف، صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی عظیم مثال ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہیں گی۔مجالس کے اختتام پر شہر کے مختلف علاقوں سے روایتی ذوالجناح کے جلوس بھی برآمد ہوئے، جو اپنے مقررہ اوقات اور راستوں کے مطابق پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔ ضلع انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مرکزی جلوس اور دیگر عزاداری کے اجتماعات کی سکیورٹی کے لیے جامع انتظامات کیے گئے تھے۔

جلوس کے راستوں اور ملحقہ گلیوں کو خار دار تاروں، بیریئرز اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے محفوظ بنایا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔جلوس کے راستے میں واقع بازار، تجارتی مراکز اور کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ عزاداروں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے مختلف مقامات پر سبیلیں قائم کی گئیں جہاں شرکا کو پانی، مشروبات اور لنگر تقسیم کیا گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق مرکزی چہلم جلوس کی سکیورٹی کے لیے 3 ہزار 600 سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور متبادل ٹریفک پلان پر عملدرآمد کے لیے 300 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی پر مامور رہے۔جلوس کے پورے روٹ کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں، کنٹرول رومز اور جدید مانیٹرنگ نظام کے ذریعے کی گئی۔ داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، خصوصی چیکنگ پوائنٹس اور خواتین پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ ہر آنے والے کی مؤثر تلاشی یقینی بنائی جا سکے۔

دریں اثنا، کمشنر راولپنڈی سلمان غنی نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بابر سرفراز الپا کے ہمراہ مرکزی جلوس کا دورہ کیا اور سکیورٹی و امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے انہیں سکیورٹی پلان، پولیس نفری، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامی و آپریشنل اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ریسکیو 1122، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار بھی پورے وقت الرٹ رہے اور عزاداروں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو اداروں اور رضاکاروں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں چہلم حضرت امام حسینؓ کے تمام جلوس اور مجالس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔