غزہ میں گھر پر اسرائیلی بمباری، میاں بیوی دو بچوں سمیت شہید

غزہ کے شمالی علاقے بیت لاہیہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی میاں بیوی اور ان کے دو بچے شہید ہوگئے ۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق چاروں شہدا کی لاشیں غزہ شہر کے الشفاہسپتال منتقل کردی گئیں۔ شہدا کی شناخت مؤمن عبد الرحمن احمد، ان کی اہلیہ حنین موسى فارس صالح، 12 سالہ بیٹی لانا اور 8 سالہ بیٹی بانا کے نام سے ہوئی …

غزہ ۔10ستمبر (اے پی پی):غزہ کے شمالی علاقے بیت لاہیہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی میاں بیوی اور ان کے دو بچے شہید ہوگئے ۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق چاروں شہدا کی لاشیں غزہ شہر کے الشفاہسپتال منتقل کردی گئیں۔ شہدا کی شناخت مؤمن عبد الرحمن احمد، ان کی اہلیہ حنین موسى فارس صالح، 12 سالہ بیٹی لانا اور 8 سالہ بیٹی بانا کے نام سے ہوئی ہے۔ حملے میں متعدد شہری زخمی بھی ہوئے جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رہی۔

اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی جبکہ اسرائیلی جنگی کشتیوں نے خان یونس کے سمندر اور وسطی غزہ کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کی۔ خان یونس کے شمال میں مواصی القرارہ کے علاقے شارع الطینہ میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والے ایک شخص کو انتہائی تشویشناک حالت میں ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں بھی اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور ڈرونز کی جانب سے پناہ گاہوں اور بے گھر افراد کے خیموں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کئی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کیمپ کے مشرقی علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری جبکہ شمال مشرقی علاقوں میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ بھی کی گئی ۔

اسرائیل کی جانب سے جبالیہ کیمپ میں مسجد الخلفا کے اطراف میں بھی ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں اور توپ خانے سے فائرنگ کی گئی۔ وسطی غزہ میں البریج کیمپ کے مشرقی علاقے میں فلیئر بم بھی پھینکے گئے جبکہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے شمال میں واقع شہر حمد کے مشرقی علاقوں کو بھی شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔یہ کارروائیاں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود جاری ہیں۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جارحیت میں غزہ کے شہدا کی تعداد 73,669 جبکہ زخمیوں کی تعداد 174,652 ہوگئی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مارنے جانے والوں کی لاشیں بڑی تعداد میں اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں۔

 

مزید خبریں