اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے پہلے روز 30 سے زائد ممالک کے سربراہان نے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام اور موسمیاتی تبدیلی سمیت ہمہ جہتی نظام اور سلامتی کونسل کی اصلاحات جیسے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی۔شنہوا کے مطابق برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دنیا کاکثیرالطرفہ نظام ایک نئے موڑ …
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کا آغاز، عالمی رہنماؤں کا فلسطینی ریاست کے قیام، ہمہ جہتی تعاون ، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی و اقتصادی مسائل کے بہتر حل کی ضرورت پر زور
اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے پہلے روز 30 سے زائد ممالک کے سربراہان نے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام اور موسمیاتی تبدیلی سمیت ہمہ جہتی نظام اور سلامتی کونسل کی اصلاحات جیسے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی۔شنہوا کے مطابق برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دنیا کاکثیرالطرفہ نظام ایک نئے موڑ پر کھڑا ہےاور اقوام متحدہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے عالمی سیاست میں خودمختاری پر حملوں، یکطرفہ پابندیوں اور مداخلتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک معمول بنتی ہوئی روش قرار دیا۔ فلسطینی عوام کی حالتِ زار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی قوم کے وجود کو خطرہ لاحق ہےاور اس کا حل صرف ایک آزاد ریاست کے قیام میں ہے جو عالمی برادری کا حصہ ہو۔پیرو کی صدر دینا بولوارٹے نے بھی ہمہ جہتی نظام کی حمایت کی اور اقوام متحدہ میں مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی و اقتصادی مسائل کا بہتر حل تلاش کیا جا سکے۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کو مؤثر بنانے کے لیے اس کے نظام خصوصاً سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات کی جائیں تاکہ بڑھتے ہوئے عالمی عدم اعتماد کا ازالہ ہو سکے۔انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانتو نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما ملک ہے ، پہلے ہی سمندر کی سطح میں اضافے جیسے خطرات سے دوچار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انڈونیشیا فوسل ایندھن سے ہٹ کر قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے اور 2060 تک زہریلی گیسوں کے صفر اخراج کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس کے برعکس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماحولیاتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کاربن کے اثرات کو ایک دھوکہ قرار دیا جبکہ چلی کے صدر گیبریل بوریچ نے ان کی بات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی حدت کا انکار کوئی رائے نہیں بلکہ جھوٹ ہے۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے اپنے ملک میں ماحولیاتی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے 14ہزارگلیشیئرز میں سے 1300مکمل طور پر پگھل چکے ہیں اور یہ عمل تیزی سے جاری ہے۔دوسری جانب جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے پائیدار ترقی اور عالمی امن کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ ایک ابھرتا ہوا براعظم ہے لیکن ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، یہاں تک کہ وہ صحت اور تعلیم سے زیادہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو گئی ہے جسے بے قابو خلفشار اور مسلسل انسانی اذیت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، بین الاقوامی قانون پر مبنی امن انسانیت کی اولین ذمہ داری ہے، انسانی حقوق امن کی زینت نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہیں۔اقوام متحدہ کا جنرل اسمبلی اجلاس 29 ستمبر تک جاری رہے گا جس میں دنیا بھر سے 150 سے زائد سربراہان مملکت و حکومت اہم عالمی امور پر اپنے خیالات پیش کریں گے۔









