مقبوضہ بیت المقدس۔17جنوری (اے پی پی):اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں زیرِ حراست یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدے طے پا گیا ہے جس کی منظوری آج ہونے والی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)کے مطابق جمعے کو اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ کابینہ کا اجلاس آج طلب کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی …
غزہ کی پٹی میں زیرِ حراست یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدے طے ،منظوری آج کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس۔17جنوری (اے پی پی):اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں زیرِ حراست یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدے طے پا گیا ہے جس کی منظوری آج ہونے والی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)کے مطابق جمعے کو اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ کابینہ کا اجلاس آج طلب کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی معاہدے کی منظوری دی جا سکے،قبل ازیں جمعرات کو نیتن یاہو کے دفتر نے کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے کابینہ کا اجلاس اس وقت تک نہیں بلائیں گے جب تک فلسطینی عسکریت پسند تنظیم غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی عمل میں نہیں لاتی۔
مذاکرات کار جنہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا،نے فلسطین کی عسکری تنظیم پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مزید رعایتوں کے حصول کی کوشش میں معاہدے کی بعض شقوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
دوسری جانب سیزفائر معاہدے کے اعلان کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری سے کم از کم 72 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔غزہ میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے رات بھر شدید بمباری کی، یہ فضائی حملے ایسے وقت کیے گئے جب فلسطینی شہری جنگ بندی معاہدے کا اعلان سننے کے بعد جشن منا رہے تھے۔
ماضی میں ہونے والی لڑائیوں کے بعد جنگ بندی کے معاہدوں کے نفاذ کے وقت سے قبل دونوں اطراف اپنی قوت دکھانے کے لیے فوجی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ممکنہ طور پر اتوار سے نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت غزہ سے آئندہ چھ ہفتوں میں 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو سینکڑوں فلسطینیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا، جو اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں۔غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے بعد رہا کیا جائے گا جو آ ئندہ ہفتے ہونے ہیں۔
فلسطینی عسکری تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ باقی یرغمالیوں کو اس وقت تک رہا نہیں کرے گی جب تک مکمل جنگ بندی نہیں ہوتی اور اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جاتی۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق علاقے میں اسرائیل کی فوجی کارروائی میں 46 ہزار سے زائد افراد مارے گئے جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔یہ واضح نہیں کہ مارے جانے والے افراد میں کتنے عسکریت پسند تنظیم کے جنگجو تھے۔اسرائیل کا کوئی ثبوت اور شواہد دکھائے بغیر دعویٰ ہے کہ اُس نے غزہ پر بمباری اور حملوں میں حماس کے 17 ہزار جنگجو مارے ہیں۔








