رام اللہ ۔3فروری (اے پی پی):غزہ کے لیے فلسطینی کمیٹی کے سربراہ نے رفح راہداری کھلنے کو امید کی کھڑکی کھلنا قرار دے دیا۔ العربیہ کے مطابق غزہ کے لیے اعلان کردہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ نےکہا ہے کہ غزہ سے جڑی سب سے اہم رفح راہداری کا کھلنا دراصل فلسطینیوں کے لیے امید کی کھڑکی کا کھل جانا ہے۔غزہ کے لیے قائم کی گئی اس ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی …
غزہ کے لیے فلسطینی کمیٹی کے سربراہ نے رفح راہداری کھلنے کو امید کی کھڑکی کھلنا قرار دے دیا

مزید خبریں
رام اللہ ۔3فروری (اے پی پی):غزہ کے لیے فلسطینی کمیٹی کے سربراہ نے رفح راہداری کھلنے کو امید کی کھڑکی کھلنا قرار دے دیا۔
العربیہ کے مطابق غزہ کے لیے اعلان کردہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ نےکہا ہے کہ غزہ سے جڑی سب سے اہم رفح راہداری کا کھلنا دراصل فلسطینیوں کے لیے امید کی کھڑکی کا کھل جانا ہے۔غزہ کے لیے قائم کی گئی اس ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی سربراہی فلسطینی اتھارٹی کو دی گئی ہے جس کے نائب وزیر علی شاس کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
یہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت قائم کیے گئے امن بورڈ کی ماتحتی میں کام کرے گی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا رفح راہداری کو کھولنے کا اقدام انتظامی اقدام نہیں لگتا۔تاہم یہ ایک لمبے سفر کی ابتدا ضرور ہے اور اس سے غزہ کے لوگوں کا باہر سے پھر سے رابطہ شروع ہو جائے گا۔
اس لیے یہ حقیقی معنوں میں فلسطینی عوام کے لیے امید کی کھڑکی ہے۔رفح راہداری مصری سرحد سے جڑی سب سے بڑی راہداری ہے جو غزہ کا زمینی رابطہ باہر کی دنیا سے کرنے کا ذریعہ ہے۔ جسے تقریبا نو ماہ کے بعد اسرائیل نے کھولنا قبول کیا ہے۔ اس پر اسرائیلی قبضہ مئی 2024 میں کیا تھا۔








