غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا وزیادتی کیس کی تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں ،فیصل کامران
غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا وزیادتی کیس کی تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں ،فیصل کامران

مزید خبریں
لاہور۔5جولائی (اے پی پی):ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے حساس مقدمے کی تحقیقات مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ پر جاری ہیں، وزیراعلی پنجاب کی واضح ہدایت ہے کہ معاملے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور اگر کوئی بھی شخص قصوروار ثابت ہوا تو اسے ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ 29 جون کو دو غیر ملکی خواتین اسلام آباد سے لاہور آئیں، اسی روز سیف سٹی اتھارٹی کو دونوں خواتین کی بازیابی سے متعلق کال موصول ہوئی، جس پر لاہور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف ٹیمیں تشکیل دیں اور تلاش کا عمل شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی پنجاب نے خود اس معاملے کا نوٹس لیا اور ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل میرٹ، شفافیت اور قانون کے مطابق کی جائیں،اسی ہدایت کی روشنی میں پولیس نے تمام دستیاب شواہد اکٹھے کئے اور کیس کے ہر پہلو کا جائزہ لیا۔فیصل کامران نے کہاکہ تفتیش کے دوران ملزم کی گاڑی کی مکمل ٹریول ہسٹری حاصل کی گئی جبکہ ڈیفنس، سرگودھا اور دیگر مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم گاڑی میں دونوں خواتین کو ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا کہ لاہور کے علاقے بھٹہ چوک کے قریب خواتین اور ملزم کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ دونوں خواتین کا سرکاری اسپتال میں فوری طبی معائنہ (میڈیکل) کرایا گیا، فرانزک شواہد اکٹھے کئے گئے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ان کے بیانات بھی ریکارڈ کرائے گئے،مقدمے کی تفتیش کے دوران تمام قانونی اور میرٹ کے تقاضے مکمل طور پر پورے کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے ملزمان کے بیانات، میڈیکل رپورٹس، فرانزک نتائج، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا ہے،
دونوں خواتین نے بھی پولیس ٹیم کے رویے اور تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔فیصل کامران نے واضح کیا کہ پولیس کسی بھی دبائو، افواہوں یا قیاس آرائیوں کے بجائے صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے، کیس کا ہر پہلو تاحال زیرِ تفتیش ہے،اگر دورانِ تحقیقات کسی بھی فرد کا جرم ثابت ہوا تو قانون کے مطابق اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔








