غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کے کی اہلیت کا سکینڈل ، ملائیشین فٹبال ایسوسی ایشن کی پوری قیادت مستعفی

کوالالمپور۔28جنوری (اے پی پی):ملائیشیا کی فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے ایم) کی پوری ایگزیکٹو کمیٹی نے غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کی اہلیت سے متعلق سنگین سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد بدھ کو استعفیٰ دے دیا، جسے ملکی فٹبال کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔اے ایف پی کے مطابق ایف اے ایم کے قائم مقام صدر یوسف مہدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا …

کوالالمپور۔28جنوری (اے پی پی):ملائیشیا کی فٹبال ایسوسی ایشن (ایف اے ایم) کی پوری ایگزیکٹو کمیٹی نے غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کی اہلیت سے متعلق سنگین سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد بدھ کو استعفیٰ دے دیا، جسے ملکی فٹبال کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔اے ایف پی کے مطابق ایف اے ایم کے قائم مقام صدر یوسف مہدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ استعفے ادارے کی ساکھ اور مفادات کے تحفظ کے لئے دئیے گئے ہیں تاکہ ملائیشین فٹبال کو مزید منفی نتائج سے بچایا جا سکے۔یہ بحران اس وقت سامنے آیا جب فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے گزشتہ ستمبر میں 7غیر ملکی نژاد کھلاڑیوں کو ایک سال کے لئے معطل کر دیا اور فٹبال ایسوسی ایشن آف ملائیشیا پر 4 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا۔

فیفا کے مطابق ان کھلاڑیوں کی جانب سے ملائیشین شہریت یا نسل سے متعلق جعلی دستاویزات جمع کروائی گئی تھیں، جن کی بنیاد پر انہیں ایشین کپ کوالیفائرز میں کھلایا گیا۔فیفا نے یہ تحقیقات اس وقت شروع کیں جب جون میں ویتنام کے خلاف ایشین کپ کوالیفائر میں ملائیشیا کی 0-4 سے جیت کے بعد ایک باضابطہ شکایت موصول ہوئی۔ ایف اے ایم نے فیفا کی پابندیوں کے خلاف اپیل دائر کی تھی، تاہم فیفا کمیٹی نے اپیل مسترد کرتے ہوئے سخت رپورٹ جاری کی اور ایسوسی ایشن پر کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہ کرنے پر شدید تنقید کی۔

فیفا نے ایف اے ایم کے طرزِ حکمرانی اور انتظامی معاملات کی مکمل تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے بعد فٹبال ایسوسی ایشن آف ملائیشیا نے سوئٹزرلینڈ میں قائم کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹ (سی اے ایس) سے رجوع کیا، جہاں یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے۔یوسف مہادی کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے استعفے فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کو آزادانہ طور پر ایف اے ایم کے انتظامی، حکمرانی اور طریقۂ کار کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے مناسب ماحول فراہم کریں گے۔اس پیش رفت کو ملائیشین فٹبال میں اصلاحات کی جانب ایک اہم مگر تکلیف دہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں