اسلام آباد۔ 08 مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ زمین کے ریکارڈ یا میوٹیشن کو اگر فراڈ یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے تو اس تنازع کا فیصلہ ریونیو حکام نہیں بلکہ سول عدالت کرے گی کیونکہ ملکیت کے حق اور فراڈ کے تعین کا اختیار سول عدالت کو حاصل ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم …
فراڈ کے الزام پر میوٹیشن اور ریکارڈ کی قانونی حیثیت کا فیصلہ سول عدالت کا اختیار ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 08 مارچ (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ زمین کے ریکارڈ یا میوٹیشن کو اگر فراڈ یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے تو اس تنازع کا فیصلہ ریونیو حکام نہیں بلکہ سول عدالت کرے گی کیونکہ ملکیت کے حق اور فراڈ کے تعین کا اختیار سول عدالت کو حاصل ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے زمین کے تنازع سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریونیو ریکارڈ یا میوٹیشن کی قانونی حیثیت اور ملکیت کے حق کا تعین کرنے کا حتمی اختیار سول عدالت کے پاس ہے، خصوصاً جب معاملہ فراڈ یا غلط بیانی کے الزامات پر مبنی ہو۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈائریکٹ سول اپیل نمبر 02-کے/2023 کا تحریری حکم جاری کیا۔عدالت کے مطابق درخواست گزاروں نے مٹھی کی سول عدالت میں ملکیت کے اعلان اور مستقل حکم امتناع کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے دعویٰ مسترد کر دیا تھا، تاہم اپیلیٹ کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اپیل منظور کر لی تھی۔
بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ، سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے جائیداد کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ مخالف فریق نے ریونیو حکام کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر میوٹیشن اپنے نام منتقل کروا لی۔عدالت نے قرار دیا کہ ریونیو حکام ایک نیم عدالتی فورم ہیں جن کا اختیار محدود نوعیت کا ہوتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ریکارڈ آف رائٹس یا میوٹیشن رجسٹر میں اندراجات کی درستگی تک محدود ہوتے ہیں اور ان کے فیصلے حتمی طور پر ملکیت کے حق یا فراڈ جیسے معاملات کا تعین نہیں کرتے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی فریق میوٹیشن یا ریکارڈ کو فراڈ یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کرے تو ایسے تنازع کے حل کے لیے ثبوت درکار ہوتے ہیں اور یہ اختیار صرف سول عدالت کے پاس ہوتا ہےجیسا کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 9 کے تحت سول عدالتوں کو حاصل ہے۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 172 سول عدالت کے اختیار کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی بلکہ صرف مخصوص معاملات تک محدود پابندی عائد کرتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ دفعہ 172 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اس لیے سندھ ہائی کورٹ نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے دعویٰ خارج کر دیا۔سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 23 دسمبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور قرار دیا کہ درخواست گزاروں کا دعویٰ دوبارہ سول عدالت میں زیر سماعت تصور کیا جائے گا۔عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ فریقین کو مکمل موقع فراہم کرتے ہوئے مقدمے کی جلد سماعت مکمل کی جائے اور غیر ضروری التوا نہ دیا جائے کیونکہ فریقین طویل عرصے سے اس مقدمے میں الجھے ہوئے ہیں۔








