فرنچ اوپن انعامی رقم تنازع، جینک سنر بھی کھلاڑیوں کے حق میں بول پڑے

فرنچ اوپن انعامی رقم تنازع، جینک سنر بھی کھلاڑیوں کے حق میں بول پڑے

روم۔8مئی (اے پی پی):اٹلی کے بین الاقوامی شہرہ آفاق ٹینس سٹار اور عالمی نمبر ون کھلاڑی جینک سنر نے فرنچ اوپن میں کھلاڑیوں کو ملنے والی انعامی رقم کے معاملے پر جاری احتجاجی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹس کی آمدنی میں زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔ ای ایس پی این کے مطابق اٹالین اوپن کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جینک سنر نے کہا کہ معاملہ صرف پیسے کا نہیں بلکہ احترام کا بھی ہے کیونکہ کھلاڑی جتنا دیتے ہیں اس کے مقابلے میں انہیں بہت کم واپس ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف بڑے کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ تمام ٹینس کھلاڑیوں کا ہے۔

بیلاروس کی ورلڈ نمبر ون ٹینس سٹار آریانا سبالینکا نے رواں ہفتے یہاں تک کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو کھلاڑی بائیکاٹ پر بھی غور کر سکتے ہیں۔تاہم جینک سنر نے فوری طور پر بائیکاٹ کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن کسی نہ کسی مقام سے آواز اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ٹینس کھلاڑیوں کی ناراضی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فرنچ اوپن میں کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹ آمدنی کا مبینہ طور پر صرف 15 فیصد حصہ دیا جا رہا ہے جبکہ اے ٹی پی اور ڈبلیو ٹی اے ایونٹس میں جیسے اٹالین اوپن ہے ،میں یہ شرح 22 فیصد تک ہے۔

اسی معاملے پر ایک سال قبل معروف کھلاڑیوں کے گروپ نے چاروں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کے منتظمین کو خط بھی لکھا تھا، جس میں زیادہ انعامی رقم اور فیصلوں میں کھلاڑیوں کی مؤثر نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس دوران ومبلڈن نے 2025 کے لئے مجموعی انعامی رقم میں 7 فیصد اضافہ کیا، جبکہ یو ایس اوپن نے 20 فیصد اور آسٹریلین اوپن نے رواں سال جنوری میں 16 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔جینک سنر نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود کھلاڑیوں کے مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ان کے مطابق اتنے اہم معاملے پر کم از کم فوری جواب اور مذاکرات ہونے چاہییں تھے۔فرنچ اوپن انتظامیہ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ مجموعی انعامی رقم میں تقریباً 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 61 اعشاریہ 7 ملین یورو کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 اعشاریہ 3 ملین یورو زیادہ ہے۔تاہم کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ اصل اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں اور ٹورنامنٹ آمدنی میں ان کا حصہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔

جینک سنر نے امید ظاہر کی کہ آنے والے ہفتوں میں ومبلڈن اور بعد ازاں یو ایس اوپن کھلاڑیوں کے مطالبات کے حوالے سے بہتر فیصلے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کھلاڑی طویل عرصے سے خاموش تھے، لیکن اب اپنی آواز بلند کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے بقول کھلاڑی 50 فیصد حصہ نہیں مانگ رہے، مگر موجودہ حصہ انتہائی کم ہے۔