اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):پی ایف سی کے سی ای او میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان فرنیچر کونسل لکڑی کا کام کرنے والے ہنر مند اور تربیت یافتہ کاریگروں کی شدید کمی سے دوچار ہے جس سے برآمدی سامان کی بروقت تیاری اور اس کی بیرون ملک ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا …
فرنیچر انڈسٹری ہنر مند اور تربیت یافتہ کاریگروں کی شدید کمی سے دوچار ہے، میاں کاشف اشفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):پی ایف سی کے سی ای او میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان فرنیچر کونسل لکڑی کا کام کرنے والے ہنر مند اور تربیت یافتہ کاریگروں کی شدید کمی سے دوچار ہے جس سے برآمدی سامان کی بروقت تیاری اور اس کی بیرون ملک ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہنر مند لیبر کی کمی مینوفیکچرنگ کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر کی صنعت کا تمام تر دارومدار ایسے کاریگروں پر ہے جو روایتی اور جدید فرنیچر کی تیاری میں مہارت رکھتے ہوں اور لکڑی کے کام کی جدید تکنیک سے واقف ہوں۔
تاہم تربیتی پروگراموں کی کمی، نوجوان نسل کی اس کام میں عدم دلچسپی اور ٹیلنٹ کو اس طرف راغب کرنے کے لیے ناکافی مراعات کی وجہ سے اس سیکٹر کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے یہ سیکٹر مصنوعات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی طلب کو پورا کرنے کے لیے ہنرمند اور ماہر لیبر کی شدید کمی کا شکار ہے۔
برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر نہ صرف ایک قابل اعتماد برآمد کنندہ کے طور پر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ برآمد کنندگان بھی مالی نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور عالمی منڈی میں ہماری بھی مسابقت کم ہو رہی ہے۔
میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کیلئے ضروری ہے کہ وہ پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کے قیام، ہنر مندی کے فروغ کے لیے پروگراموں کی تیاری اور کاریگروں کو مالی مراعات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کی طرف فوری توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ افرادی قوت کو تربیت کی فراہمی، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی فرنیچر مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو مستحکم کیا جا سکے۔








