بارسلونا ۔16اکتوبر (اے پی پی):نیدرلینڈز کے مڈفیلڈر فرینکی ڈی یونگ نے سپین کے مشہور فٹبال کلب ایف سی بارسلونا کے ساتھ 2029 تک کے نئے معاہدہ پر سائن کردیا جس کے مطابق وہ 2029 تک بارسلونا کو دستیاب ہوں گے۔شنہوا کے مطابق 28 سالہ فرینکی ڈی یونگ 2019 میں ایجیکس سے بارسا میں شامل ہوئے تھے اور اب تک کلب کے ساتھ دو لا لیگا ٹائٹلز اور دو کوپا ڈیل …
فرینکی ڈی یونگ کا بارسلونا کے ساتھ 2029 تک کا نیا معاہدہ طے پاگیا

مزید خبریں
بارسلونا ۔16اکتوبر (اے پی پی):نیدرلینڈز کے مڈفیلڈر فرینکی ڈی یونگ نے سپین کے مشہور فٹبال کلب ایف سی بارسلونا کے ساتھ 2029 تک کے نئے معاہدہ پر سائن کردیا جس کے مطابق وہ 2029 تک بارسلونا کو دستیاب ہوں گے۔شنہوا کے مطابق 28 سالہ فرینکی ڈی یونگ 2019 میں ایجیکس سے بارسا میں شامل ہوئے تھے اور اب تک کلب کے ساتھ دو لا لیگا ٹائٹلز اور دو کوپا ڈیل رے جیت چکے ہیں۔بارسلونا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کلب کو یقین ہے کہ فرینکی ڈی یونگ اپنی قابلیت اور تجربے کی بدولت موجودہ سپورٹنگ پراجیکٹ کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
اگرچہ فرینکی ڈی یونگ کچھ وقت کے لیے فارم میں نہیں رہے، تاہم گزشتہ سیزن میں ہانسی فلِک کی کوچنگ میں انہوں نے پیڈری گونزالیز کے ساتھ مل کر مڈفیلڈ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔فرینکی ڈی یونگ نے پریس کانفرنس میں کہاکہ میں ہمیشہ بارسا کے لیے کھیلنے کا خواب دیکھتا تھا، اور اب جبکہ یہ خواب پورا ہو چکا ہے، میں مزید کئی سالوں تک اس خواب کی تکمیل چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں اس کلب کے لئے مزید ٹائٹل جیتوں۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ 27 ۔ 2026 سیزن سے اپنی تنخواہ میں کمی قبول کریں گے۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق فرینکی ڈی یونگ بارسلونا کے اعلیٰ تنخواہ لینے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کے بارے میں میڈیا نے جو کچھ لکھا، وہ حد سے زیادہ مبالغہ آمیز تھا۔فرینکی ڈی یونگ نے کہا کہ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ میں کیا کماتا ہوں، لیکن جو کچھ میڈیا میں لکھا گیا، وہ حقیقت سے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اس کا میری ساکھ پر اثر پڑتا ہے ۔
یاد رہے کہ بارسلونا نے 2022 میں مالی مشکلات کے باعث فرینکی ڈی یونگ کو فروخت کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ کلب میں ہی رہنے پر قائم رہے۔ڈی یونگ اب تک بارسا کے لیے 250 سے زائد میچز کھیل چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اپنے کوچز، ساتھی کھلاڑیوں یا کلب سے کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ جو باتیں میڈیا کرتا ہے، وہ ان کا نقطۂ نظر ہے، اور یہی فٹبال کی خوبصورتی ہے کہ ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہوتا ہے۔








