اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے دو ریاستی حل سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے …
فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادیں بتدریج ختم کی جا رہی ہیں، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
نیو یارک۔23ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے دو ریاستی حل سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ مستقبل میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادیں بتدریج ختم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل متعدد ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا اور اس اقدام کے ذریعے ان ممالک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل ہی فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے میں دیرپا امن و سلامتی کے لیے قابلِ عمل راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس پیش رفت کے باوجود ایک آزاد، جمہوری، مربوط، قابلِ عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ضروری حالات مسلسل ختم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی عدالت انصاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اسرائیل کی ایسی پالیسیوں اور اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے جو غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی منظوری کو تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود مغربی کنارے بشمول مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی توسیع غیر معمولی حد تک تیزی سے ہو رہی ہے جبکہ آبادکاروں کے تشدد میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے مکانات کو منہدم کرنے، بے دخلی، نقل مکانی، زمینوں پر قبضے اور مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی خاندان اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ بیت امقدس کے مشرق میں اسرائیل کے ای ون سیٹلمنٹ منصوبے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر پیش رفت ایک مربوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ غزہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تباہی اور مایوسی میں گھِرے خاندانوں کے لیے بہتر مستقبل کے وعدے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک زمینی صورتحال میں حقیقی تبدیلی نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ سے متعلق امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ دو ریاستی حل کی حمایت اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے پالیسیوں، فیصلوں اور عملی اقدامات میں بھی نظر آنا چاہیے۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع روکیں، الحاق کی کوششوں کو ناکام بنائیں، فلسطینی اداروں اور ان کی مالی استعداد کی حمایت کریں اور قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقصد واضح ہے کہ اسرائیل اور فلسطین پر مشتمل دو آزاد، خودمختار اور جمہوری ریاستیں، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی سے رہیں اور یروشلم دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہو۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے دو ریاستی حل کے حوالے سے منعقد کیے گئے سربراہی اجلاس کے ایک سال بعد ہوا ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک نے گزشتہ سال اسی اجلاس کے قریب فلسطین کو تسلیم کیا تھا۔ یہ پیش رفت’’نیویارک ڈیکلریشن‘‘ کی بنیاد پر ہوئی، جو جولائی 2025 میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک روڈ میپ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔








