فچ ریٹنگز کے مطابق ملکی معیشت کے بنیادی اشاریوں بہتری اور پالیسیوں کاتسلسل ظاہر ہو رہا ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد

فچ ریٹنگز کے مطابق ملکی معیشت کے بنیادی اشاریوں بہتری اور پالیسیوں کاتسلسل ظاہر ہو رہا ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد

اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسی فچ ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ بی منفی پر برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کے منظرنامہ کومستحکم قراردینے سے ملکی معیشت کے بنیادی اشاریوں کی بہتری اور پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی ہورہی ہے، ریٹنگ عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے ۔پیرکوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مالیاتی نظم و ضبط اور مجموعی معاشی استحکام میں نمایاں بہتری آئی ہے،ادارہ نے اس بات کو بھی سراہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا جاری پروگرام معاشی اصلاحات کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے اور اس کے تسلسل سے پالیسیوں میں استحکام پیدا ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کی توقع ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی شعبے کی لچک میں اضافہ ہوگا۔فچ کی رپورٹ میں سٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کر کے اسے 10.5 فیصد تک لانے کے اقدام کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری اعتماد میں اضافے کے لیے مثبت قرار دیا گیا ہے۔ فچ ریٹنگز نے پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے محتاط مگر مثبت اندازہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں مجموعی قومی پیداوا کی شرح نمو تقریباً 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مہنگائی کی شرح کو 7.9 فیصد کے قریب قابل انتظام سطح پر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 5.3 فیصد تک محدود رہنے کا اندازہ ہے۔جاری کھاتوں کا خسارہ نسبتاً کم رہتے ہوئے 1.1 فیصد کے قریب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔خرم شہزادنے بتایاکہ فچ ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی برقرار رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک بتدریج معاشی استحکام، اصلاحات اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستان اپنی معاشی لچک برقرار رکھتے ہوئے اصلاحات کے عمل کوکامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے جو آئندہ برسوں میں معاشی بہتری کے امکانات کو مزید تقویت دے گا۔