فیصل آباد۔ 04 جنوری (اے پی پی):ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین اثمارنے باغبانوں کوسٹرابری کی منظور شدہ اقسام میں کلونڈائیک، مشنری، ہاورڈ، بلیک مور وغیرہ کی کاشت فروری کے آغاز سے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغبان سٹرابری کی کاشت موسم بہار کے دوران مکمل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اچھی اقسام کی کاشت بہتر پیداوار کے …
فیصل آباد،باغبانوں کو سٹرابری کی منظور شدہ اقسام کی کاشت فروری کے آغازسے شروع کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 04 جنوری (اے پی پی):ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین اثمارنے باغبانوں کوسٹرابری کی منظور شدہ اقسام میں کلونڈائیک، مشنری، ہاورڈ، بلیک مور وغیرہ کی کاشت فروری کے آغاز سے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ باغبان سٹرابری کی کاشت موسم بہار کے دوران مکمل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اچھی اقسام کی کاشت بہتر پیداوار کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سٹرابری کی مختلف اقسام کے لئے مختلف آب و ہو ا درکار ہوتی۔ انہوں نے بتایاکہ ایسی اقسام جن کے پھول آپس میں زرپاشی کاعمل بخوبی سر انجام دے سکیں انہیں ایک بلاک میں لگایا جاسکتاہے۔
انہوں نے بتایاکہ ایسی اقسام جن کی زر پاشی کسی دوسری قسم سے ہوتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ کھیت میں مختلف اقسام لائنوں میں لگائی جائیں تاکہ ان کی زرپاشی آسانی سے ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ سٹرابری کے لئے معتدل سرد مرطوب آب وہوا کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ سخت سردی اور سخت گرمی دونوں ہی اس کے لئے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ سٹرابری کوسال میں دو مرتبہ موسم بہار میں فروری و مارچ اور موسم خزاں میں ستمبر و اکتوبر کے دوران کاشت کیاجاسکتاہے۔
انہوں نے بتایاکہ سٹرابری کا پودا میدانی اور پہاڑی علاقوں میں زیادہ کاشت ہو سکتاہے۔انہوں نے مزید بتایاکہ مناسب نکاسی آب اور زمین میں نامیاتی مادوں کی حامل اراضی سٹرابری کی کاشت کے لئے مفید ہے۔انہوں نے بتایاکہ سٹرابری کو تیزابی اثر رکھنے والی گہری اور میرازمین میں بھی کاشت کیاجاسکتاہے۔








