فیصل آباد۔ 19 جنوری (اے پی پی):ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے کاشتکاروں سے کہا ہے کہ وہ پیاز کی پنیری رواں ہفتہ کھیتوں میں منتقل کر دیں نیز پنیری کی منتقلی سے قبل پانی روکنے کےلئے بھی اقدامات کئے جائیں تاکہ نرسری سخت جان ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ پودے آسانی سے نکالنے کےلئے پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے 2گھنٹے قبل اچھی طرح …
فیصل آباد،محکمہ زراعت کی سبزیوں کے کاشتکاروں کےلئے مختلف سفارشات جاری

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 19 جنوری (اے پی پی):ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے کاشتکاروں سے کہا ہے کہ وہ پیاز کی پنیری رواں ہفتہ کھیتوں میں منتقل کر دیں نیز پنیری کی منتقلی سے قبل پانی روکنے کےلئے بھی اقدامات کئے جائیں تاکہ نرسری سخت جان ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ پودے آسانی سے نکالنے کےلئے پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے 2گھنٹے قبل اچھی طرح پانی دے دینا چاہیے۔ پنیری کو جڑیں ٹوٹنے سے بچانا بھی اشد ضروری ہے کیونکہ جڑ ٹوٹنے کی صورت میں پنیری کے پھلنے پھولنے کے امکانات انتہائی معدوم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کاشتکاروں کو بھی تاکید کی کہ وہ زمین کی تیاری کےلئے پہلے مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور بعد میں 2مرتبہ کلٹی ویٹر چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر کاشتکار کسی قسم کی مشکل محسوس کریں تو وہ ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے رجوع کر سکتے ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے کاشتکار وں کو لہسن کی فصل کو مختلف بیماریوں سے بچانے کےلئے فوری طور پر 3سے4 مرتبہ گوڈی اور جڑی بوٹیوں کی فوری تلفی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار لہسن کی فصل کو مختلف بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں کے حملہ سے بچاؤ کےلئے حفاظتی اقدامات کریں خاص کر جھلساؤ کی بیماری کے بارے میں کسی غفلت کامظاہرہ نہ کیاجائے۔
انہوں نے کہاکہ پتوں کے جھلساؤ کی بیماری کے لہسن کی فصل پر حملہ آور ہونے سے پتے اوپر سے سوکھنے لگتے ہیں جبکہ جوں جوں حملہ شدت اختیار کرتاہے تمام پتے خشک ہو کر چڑ مڑ ہوجاتے ہیں اور اس طرح لہسن کی گٹھیوں کا سائز چھوٹا رہ جاتاہے اور فصل کو شدید نقصان کا سامناکرناپڑتاہے۔انہوں نے بتایاکہ اس بیماری کی علامت اگرچہ کورے کے نقصان سے ملتی جلتی ہے لیکن اس بیماری کے جراثیم زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار فصل کی 3سے4 مرتبہ گوڈی ضرور کریں اور جڑی بوٹیوں کو بروقت تلف کرنے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیاجائے۔








