اوٹاوا ۔ 16 دسمبر(اے پی پی)چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) ایک سڑک،ایک بیلٹ منصوبے (بی آر آئی) کا اہم حصہ ہے اور یہ منصوبہ خطے میںامن ، استحکام اور ترقی و خوشحالی کی راہداری ثابت ہوگا ۔کارلیٹن یونیورسٹی کے زیر انتظام بی آر آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا میں تعینات پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی …
قائم مقام ہائی کمشنر محمد سلیم کا بی آر آئی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اوٹاوا ۔ 16 دسمبر(اے پی پی)چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) ایک سڑک،ایک بیلٹ منصوبے (بی آر آئی) کا اہم حصہ ہے اور یہ منصوبہ خطے میںامن ، استحکام اور ترقی و خوشحالی کی راہداری ثابت ہوگا ۔کارلیٹن یونیورسٹی کے زیر انتظام بی آر آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا میں تعینات پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی شرح میں تیزی آئے گی اور پاکستان میں توانائی ، بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر شعبوں میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ سی پیک کے نتیجہ میں پاکستان توانائی کے حوالہ سے محفوظ ملک بن جائیگا اور اسکی جی ڈی پی شرح نمو میں دو سے تین فیصد اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جلد تکمیل سے 40ہزار سے زائد روز گار کے مواقع پیدا ہوئے اور نئے منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک چین اور پاکستان کی قیادت اور عوام کے مشترکہ مقاصد کے حصول اور باہمی ترقی و خوشحالی کے نظریہ کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر لوشائے نے کہاکہ” بیلٹ اینڈ روڈ انشی ایٹیو“یعنی بی آر آئی جغرافیائی و سیاسی منصوبہ نہیں لیکن یہ بین الاقوامی ترقی و خوشحالی کا نظریہ ہے جس کا مقصد علاقائی ممالک میں تجارتی و اقتصادی رابطوں کا فروغ ہے ۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں ، ماہرین تعلیم ، میڈیا کے اراکین ، کاروباری برادری اور طلباءسمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔








