صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی پانچ سالہ سفارتی مدت کے دوران پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دورِ سفارت میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ۔
قازقستان کے سفیر کی پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی پانچ سالہ سفارتی مدت کے دوران پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دورِ سفارت میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قازقستان کے سفیر سے ایوانِ صدر میں الوداعی ملاقات کے دوران کیا ۔ صدر مملکت نے کہا کہ ان کے دورِ سفارت میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی، جس کا نقطۂ عروج فروری 2026ء میں قازقستان کے صدر قاسم ژومارت توکایف کا پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ تھا۔
یہ 23 سال بعد کسی قازق صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بلند کیا گیا۔صدر مملکت نے دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز ) پر مؤثر عملدرآمد اور سیاسی خیرسگالی کو مزید تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل روابط کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو دو سال میں ایک ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے زراعت، توانائی، کان کنی و معدنیات، آئی ٹی، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے مواصلات، ریلوے، فضائی اور بحری شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے صدر قاسم ژومارت توکایف اور حکومتِ قازقستان کی جانب سے پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی گرانٹ کو سراہا اور گوجرانوالہ میں پہلے قازقستان-پاکستان مصنوعی ذہانت مرکز کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ قازقستان کے سفیر نے صدر مملکت کو بتایا کہ قازقستان پاکستان کے ساتھ ریلوے رابطہ قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، زراعت، آئی ٹی اور تعلیم کے شعبوں پر مشتمل چھ شعبہ جاتی ورکنگ گروپس پہلے ہی فعال ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قازقستان نے متعدد معروف بین الاقوامی جامعات کے کیمپس قائم کیے ہیں، جہاں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے طلبہ کو معروف عالمی جامعات میں نسبتاً کم اخراجات پر تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً ایک ہزار پاکستانی طلبہ قازقستان کی جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ قازقستان پاکستانی پھلوں، بالخصوص آم، امرود، فالسہ اور دیگر گرم علاقوں کے پھلوں کے لیے ایک منڈی بن سکتا ہے۔صدر مملکت نے حکومت، کاروباری برادری اور تعلیمی اداروں کے ساتھ سفیر کی فعال روابط اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے قازقستان کے صدر قاسم ژومارت توکایف کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا اور سفیر یرژان کستافن کے لیے مستقبل کی ذمہ داریوں میں کامیابی کی دعا کی۔








