اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی)ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے چیئرمین ہلال احمر کی جانب سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کیلئے ”ملک گیر عطیہ خون کی مہم“ کے سلسلہ میں پارلیمنٹ ہاوس میں قائم ہلال احمر کے بلڈ بینک میں خون کا عطیہ دے کر مہم کا آغاز کیا اور تمام پارلیمنٹیرینز، قومی اسمبلی سٹاف اور عوام سے زیادہ سے زیادہ خون عطیہ کرنے …
قاسم سوری نے پارلیمنٹ ہاوس میں ہلال احمر کے بلڈ بینک میں خون کا عطیہ دے کر ”ملک گیر عطیہ خون کی مہم“ کا آغاز کیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 فروری (اے پی پی)ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے چیئرمین ہلال احمر کی جانب سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کیلئے ”ملک گیر عطیہ خون کی مہم“ کے سلسلہ میں پارلیمنٹ ہاوس میں قائم ہلال احمر کے بلڈ بینک میں خون کا عطیہ دے کر مہم کا آغاز کیا اور تمام پارلیمنٹیرینز، قومی اسمبلی سٹاف اور عوام سے زیادہ سے زیادہ خون عطیہ کرنے کی درخواست کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ چیئرمین ہلال احمر ابرار الحق نے مجھ سے کہا کہ وہ ہلال احمر کے سائے تلے ”ملک گیر عطیہ خون کی مہم“ کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور بلڈ کلیکشن کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ میں اس نیک کام میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں آپ آئیں اور یہ مہم ہم پارلیمنٹ سے شروع کریں گے کیونکہ پارلیمنٹ میں پورے پاکستان کے نمائندے ہیں۔ میں نے انہیں پارلیمنٹ ہاو¿س میں مدعو کیا اور اس کارخیر کا آغاز اپنے خون کے عطیہ سے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ ہاو¿س میں خون کے عطیات دے کر لوگوں کو پیغام دینا ہے کہ خون کے عطیات دینا اچھی بات ہے اور مستحق لوگوں کی زندگی دے کر بچانی چاہئے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے تمام پارلیمنٹیرینز سے درخواست کی کہ وہ سب بھی اس کیمپ میں آئیں اور خون کے عطیات دیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ خون عطیہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور خون عطیہ کرنے کے دو تین ماہ میں ہی اللہ تعالیٰ آپ کے جسم میں دوبارہ وہی خون بنا دیتا ہے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حادثات میں زخمیوں کی آپریشن کے دوران جان بچانے کیلئے خون کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے لوگ جو شدید بیمار ہیں ہسپتالوں میں داخل ہیں انہیں خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے، تھیلیسیمیا کے موذی مرض میں مبتلا بچوں کی زندگی بچانے کیلئے خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کیلئے اور سب سے بڑہ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے خون کا عطیہ دینا چاہئے۔ آپ کے خون کا عطیہ کسی کی جان بچا سکتا ہے اور ہر صحتمند انصاف کو لازمی ضروت مندوں کو خون عطیہ کرنا چاہئے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس حوالہ سے آگاہی دینے کےلئے آج ہم نے ”ملک گیر عطیہ خون مہم“ کا آغاز پارلیمنٹ ہاو¿س سے کیا ہے، ہم اپنے حلقوں میں بھی جائیں گے اور اپنے علاقہ کے لوگوں، اپنے ساتھیوں اور کارکنان کی خون عطیہ کرنے کےلئے حوصلہ افزائی کریں اور لوگوں سے اس خوف کو دور کریں گے کہ خون عطیہ کرنے سے کسی قسم کا نقصان یا جسمانی کمزوری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور سب کو خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے خون عطیہ کرنا چاہئے۔ ہلال احمر کے چیئرمین ابرار الحق نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس کارخیر میں ان کی ایک آواز پر لبیک کہا اور ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے قومی اسمبلی سے عطیہ خون کی اس مہم کا آغاز کرایا۔ ابرار الحق نے کہا کہ ہلال احمر کے کئی ہسپتال بند پڑے ہیں ان کو بھی دوبارہ کھولنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ، رسک ریڈیکش، کلائیمیٹ چینج، ریسٹورنگ فیمیلیز جیسے بڑے چیلینجز کا سامنا ہے اور ہلال احمر ان سب سے نمٹنے کیلئے رات دن کام کر رہا ہے۔ چیئرمین ہلال احمر ابرار الحق نے پوری قوم سے ”ملک گیر عطیہ خون کی مہم“ میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی۔








