قانون سازی پارلیمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے ،اختیار ولی خان

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ آئینی اعتبار سے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے، حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام قانون سازی اتفاقِ رائے اور سیاسی جماعتوں کے باہمی مشورے سے مکمل کی جانی چاہیے ۔ ہفتہ کونجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو برقرار …

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ آئینی اعتبار سے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے، حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام قانون سازی اتفاقِ رائے اور سیاسی جماعتوں کے باہمی مشورے سے مکمل کی جانی چاہیے ۔

ہفتہ کونجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور تمام قوانین اجتماعی طور پر بننے چاہئیں۔آئینی عدالت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اختیار ولی خان نے بتایا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں ابتدا میں آئینی عدالت کے قیام کی تجویز شامل تھی جسے بعد ازاں ایک آئینی بینچ میں تبدیل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ جب پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد پوری ہو جائے گی تو آئینی عدالت کا قیام یقینی بنایا جا سکتا ہے۔اختیار ولی خان نے کہا کہ آئینی ترامیم نظام میں موجود خلا کو پُر کرنے اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعارف کرائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ اختیار کسی صورت اس سے واپس نہیں لیا جا سکتا۔