قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور چینی ادارے SDATC کے مابین مفاہمتی یادداشت کی تجدید، تحقیقی تعاون کو نئی جہت ملے گی

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور چینی ادارے SDATC کے مابین مفاہمتی یادداشت کی تجدید، تحقیقی تعاون کو نئی جہت ملے گی

گلگت۔ 11 ستمبر (اے پی پی):قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور شینڈونگ اکیڈمی آف سائنسز سے ملحقہ شینڈونگ اینالیسس اینڈ ٹیسٹ سینٹر (SDATC) کے مابین باہمی سائنسی تعاون کو مزید مستحکم کرتے ہوئے 2021 میں طے پانے والے مفاہمتی یادداشت کی باقاعدہ تجدید کر دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں اداروں کے مابین علمی و تحقیقی روابط کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

تقریب میں کے آئی یو کی جانب سے ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) پروفیسر محمد اسماعیل،ڈائریکٹر اکیڈمک ڈاکٹر سجاد علی، ڈائریکٹر انٹرنیشنل آفس ڈاکٹر سجاد حیدر، سینیٹر ڈاکٹر عفت ستارہ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کیمسٹری ڈاکٹر شاہین شاہ، ایم او یو فوکل پرسن ڈاکٹر افتخار علی، ڈاکٹر منظور حسین اور ڈاکٹر سیما وفی نے شرکت کی جبکہ SDATC کی جانب سے وائس ڈائریکٹر پروفیسر ژانگ یون اور ہوسٹ پروفیسر وینہوا جی موجود تھے۔

واضح رہے کہ SDATC 1978 میں قائم کیا گیا ایک معتبر تحقیقی ادارہ ہے جو 100 سے زائد اعلیٰ تربیت یافتہ محققین، جدید تجزیاتی و تجرباتی سہولیات کے وسیع پلیٹ فارم اور 200 سے زائد قومی سطح کے تحقیقی منصوبوں کے علاوہ 60 سے زائد تحقیقی ایوارڈز پر مشتمل شاندار ٹریک ریکارڈ کا حامل ہے۔نو تجدید شدہ معاہدے کے تحت کیمسٹری، فارمیسی، ماحولیاتی سائنس، فوڈ ٹیکنالوجی اور میٹریلز سائنس کے شعبوں میں پائیدار تحقیقی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔

اس فریم ورک کے تحت دونوں ادارے مشترکہ طور پر بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے تحقیقی منصوبوں، فیکلٹی و طلبہ کے دو طرفہ تبادلوں، مشترکہ بین الاقوامی کانفرنسوں و سمپوزیمز کے انعقاد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی و کمرشلائزیشن کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔اس موقع پر وائس چانسلر کے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق نے معاہدے کی تجدید کو سراہتے ہوئے اسے دونوں اداروں کے مابین علمی و تحقیقی تعلقات کے فروغ کے لیے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر دونوں وفود نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد اسماعیل اور ڈاکٹر سجاد حیدر نے کے آئی یو کی جانب سے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس معاہدے کو ادارہ جاتی ترقی کے لیے سنگ میل قرار دیا۔

مزید خبریں