وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار ترقی اور اقتصادی خودمختاری کے حصول کے لیے قرضوں پر انحصار کی پالیسی سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب تیزی سے پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ محدود مالی وسائل، بڑھتے قرضوں کے بوجھ اور عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت …
قرضوں پر انحصار سے نکل کر برآمدات پر مبنی خود انحصاری کی جانب بڑھنا ہوگا، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو پائیدار ترقی اور اقتصادی خودمختاری کے حصول کے لیے قرضوں پر انحصار کی پالیسی سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب تیزی سے پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ محدود مالی وسائل، بڑھتے قرضوں کے بوجھ اور عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت قومی ترقیاتی ترجیحات پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (APCC) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جہاں مالی سال 2025-26 کی معاشی و ترقیاتی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور مالی سال 2026-27 کے سالانہ پلان، ترقیاتی حکمتِ عملی اور قومی ترقیاتی ترجیحات کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، وفاقی سیکریٹریز، صوبائی وزرائے خزانہ و منصوبہ بندی، صوبائی حکام، خصوصی علاقوں کے نمائندگان، خودمختار اداروں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی ترقیاتی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کی پیش رفت پر غور کیا گیا اور مالی سال 2026-27 کے سالانہ پلان اور ترقیاتی ترجیحات کو حتمی شکل دی گئی۔
اپنے افتتاحی خطاب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو محدود مالی وسائل، بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی، عالمی معاشی دباؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش مسلسل سکڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد وفاقی ترقیاتی بجٹ مجموعی بجٹ اور جی ڈی پی کے تناسب سے مسلسل کم ہوا ہے، جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کا حجم نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2017-18 میں PSDP قومی بجٹ کا 19.6 فیصد اور جی ڈی پی کا 2.5 فیصد تھا، جو 2025-26 میں کم ہو کر بالترتیب 4 فیصد اور 0.6 فیصد رہ گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے پی ایس ڈی پی کو بعد ازاں معاشی دباؤ اور توانائی سبسڈی کی ضروریات کے باعث کم کر کے 837 ارب روپے تک محدود کرنا پڑا۔احسن اقبال نے کہا کہ پی ایس ڈی پی محض ایک بجٹ مد نہیں بلکہ قومی عزم اور ترقی کے وژن کا اظہار ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو قرضوں اور بیرونی امداد پر انحصار سے نکل کر برآمدات اور برآمدات سے منسلک غیر ملکی سرمایہ کاری کو قومی اقتصادی حکمت عملی کا مرکز بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ باوقار قومیں قرضوں کے سہارے نہیں بلکہ پیداوار، مسابقت اور برآمدات کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔
برآمدات اقتصادی خودمختاری کی ماسٹر چابی ہیں اور پاکستان کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے قومی سطح پر برآمدات کے فروغ کی مہم چلانا ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام دراصل ماضی میں معیشت کو درپیش سنگین مشکلات کے بعد بحالی کا ایک ضروری مرحلہ ہے، تاہم مستقل استحکام اور قومی وقار کا راستہ صرف برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے جوائنٹ چیف اکانومسٹ نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے 3.7 فیصد عبوری شرح نمو حاصل کی، جس میں صنعتی شعبے نے 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے نے 4.1 فیصد ترقی کی۔ جولائی تا اپریل مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی جبکہ ٹیکس وصولیوں میں 10.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ برآمدات 34 ارب ڈالر، ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر اور 15 مئی 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 22.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو معیشت کے استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ زراعت کے لیے 3.8 فیصد، صنعت کے لیے 4 فیصد اور خدمات کے شعبے کے لیے 4.2 فیصد ترقی کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارتوں اور ڈویژنز نے پی ایس ڈی پی 2026-27 کے لیے 4,100 ارب روپے کی طلب پیش کی، جبکہ وزارت منصوبہ بندی نے ترجیحات کی بنیاد پر اس طلب کو معقول سطح تک لانے کی کوشش کی۔ تاہم وزارت خزانہ کی جانب سے صرف 1,126 ارب روپے کی ابتدائی بجٹ حد (IBC) فراہم کی گئی، جو مجموعی طلب کا صرف 27 فیصد ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جاری منصوبوں پر واجب الادا مالی ذمہ داریوں کا حجم 10 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث موجودہ رفتار سے منصوبوں کی تکمیل میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔اے پی سی سی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4,715 ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی سفارش کی، جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 1,126 ارب روپے، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں (ADPs) کے لیے 3,138 ارب روپے اور سرکاری اداروں کی سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ محدود وسائل کے پیش نظر 98 فیصد سے زائد فنڈز جاری منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، ضم شدہ اضلاع اور کم ترقی یافتہ علاقوں خصوصاً بلوچستان اور گوادر کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو اب استحکام سے ترقی، بحالی سے اصلاحات اور مزاحمت سے تجدید کی جانب بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محدود وسائل کو ایسے منصوبوں پر مرکوز کیا جائے گا جو معاشی نمو، قومی مسابقت اور برآمدات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکیں اور پاکستان کو ایک خود انحصار، برآمدات پر مبنی معیشت بنانے میں مدد دیں۔








