اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ قوانین عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وضع کئے جاتے ہیں جبکہ بھارتی حکومت نے اس کے برعکس آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 الف کو ختم کر کے کشمیری عوام کو ان کی شناخت سے محروم کر دیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں ایسے قوانین جن سے عوام کو ان کے جائز …
قوانین عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وضع کئے جاتے ہیں جبکہ بھارت نے اس کے برعکس آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 الف کو ختم کر کے کشمیری عوام کو ان کی شناخت سے محروم کر دیا ،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ قوانین عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وضع کئے جاتے ہیں جبکہ بھارتی حکومت نے اس کے برعکس آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 الف کو ختم کر کے کشمیری عوام کو ان کی شناخت سے محروم کر دیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں ایسے قوانین جن سے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جائے، کی سختی سے نفی کی جاتی ہے۔ مقبوضہ وادی کے عوام 5 اگست 2019ءکے بھارتی حکومت کے اقدام جس سے ان کو شناخت سے محروم کیا گیا ہے، کے خلافہ سراپا احتجاج ہیں، پوری وادی میں گزشتہ 182 دنوں سے تاریخ کا بدترین لاک ڈاﺅن جاری ہے، پوری کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لئے ذرائع ابلاغ پر بھی سخت پابندی عائد ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے اسلام آباد ایوان قائد ایف نائن پارک میں منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور پارلیمنٹ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان مسئلہ کشمیر کے منطقی انجام تک کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور علاقائی وہ عالمی فورمز پر کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جو قربانیاں دی ہیں اور جس عزم و استقلال سے گزشتہ 73 سالوں سے بھارتی ظلم و استبداد کا مقابلہ کر رہے ہیں، کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019ءسے مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاﺅن سے کشمیری عوام انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اس سخت سردی کے موسم میں مقبوضہ وادی کے عوام خوراک، ادویات، ایندھن سمیت زندگی کی تمام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ انہوں نے اقوم عالم کو مقبوضہ کشمیر میں جاری صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور وادی میں جاری لاک ڈاﺅن کے فوری خاتمے کے لئے بھارت پر دباﺅ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ وادی میں استصواب رائے ہے اس کے بغیر مقبوضہ کشمیر کی عوام کو مطمئن کرنا اور حالات کو معمول پر لانا ممکن نہیں۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے، تمام پارلیمانی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال پر دو دن سیرحاصل بحث کرنے کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث کی روشنی میں کشمیرکی حق خودارادیت کے حق اور کشمیرمیں جاری کرفیو کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی جائے گی۔ انہوں نے پوری پاکستانی قوم اور میڈیا کو یوم یکجہتی کشمیر میں بھرپور یکجہتی حصہ لے کر کشمیر ی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے کہا۔ قبل ازیں سپیکر نے کشمیر ی عوام کے یکجہتی کے اظہار کے لئے منعقدہ واک میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور بھی ان کے ہمراہ تھے۔ واک میں اسلام آباد کے پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں، اساتذہ ، سول سوسائٹی، میڈیا کے نمائندوں اور آزاد ریاست جموں کشمیر کی سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ بعد ازاں اسپیکر نے ایوان قائد ایف نائن پارک میں کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پر بنائی گئی تصویری نمائش کا افتتاح بھی کیا۔








