اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی میں منگل کو 27 ویں آئینی ترمیم پر بحث ہوئی جس میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اپنے خیالات کااظہارکیا، حکومت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین نے آئینی ترامیم اور عدلیہ میں اصلاحات کو وقت کی ضرورت قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت، آئین اور دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی ترامیم وقت کی ضرورت ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین …
قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پر بحث، ملک میں جمہوریت، آئین اور دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی ترامیم وقت کی ضرورت ہے، حکومتی اراکین

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی میں منگل کو 27 ویں آئینی ترمیم پر بحث ہوئی جس میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اپنے خیالات کااظہارکیا، حکومت اور اتحادی جماعتوں کے اراکین نے آئینی ترامیم اور عدلیہ میں اصلاحات کو وقت کی ضرورت قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت، آئین اور دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی ترامیم وقت کی ضرورت ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے اتفاق رائے سے ترامیم منظورکرانے پر زوردیا۔
منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شاہدہ بیگم نے کہا کہ جس طرح 1973ء کے آئین کو اتفاق رائے سے منظورکیاگیا تھا اسی طرح قانون سازی کاعمل اتفاق رائے سے مکمل کرنا چاہئے۔ہم نے 26 ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی اپنے خدشات کا اظہارکیاتھا اور مطالبہ کیاتھا کہ اسلامی نظریاتی کو نسل اور مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نکات کو شامل کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ ہم اداروں اور آئین کے خلاف نہیں ہے، ہم شہدا کی قربانیوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اپوزیشن کے اراکین پاکستان کے خیرخواہ ہیں۔
ہماری خواہش تھی کہ آئینی ترامیم اتفاق رائے سے ہوتیں۔عمیرخان نیازی نے کہا کہ ملک کو مسائل کاسامنا ہے،بچوں میں اموات کی شرح زیادہ ہے، پاکستان پر آبی جنگ مسلط ہے اور ہمارے کسانوں کے پاس زراعت کیلئے پانی نہیں ہے ۔ ان مسائل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے عجلت کامظاہرہ کیاجارہاہے،ججز کے تبادلے نہیں ہونے چاہییں۔
اپوزیشن کے رکن سردار محمد لطیف خان کھوسہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ 1973ء کا متفقہ آئین شہید ذوالفقار علی بھٹو کا بڑا کارنامہ تھا،18 ویں ترمیم کے بعد 1973ء کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آرٹیکل 136کے تحت قرآن وسنت کے خلاف کو ئی قانون نہیں بن سکتا۔یہ ایوان 25 کروڑ عوام کا گھر ہے ۔اس کے تقدس کے لئے ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔
اعجازالحق نے کہا کہ آئین مقدس دستاویز ہے، ترامیم جلدبازی کی بجائے سوچ بچارکے بعدہونی چاہئے۔معرکہ حق کے بعدملک کے دفاع کے حوالہ سے پیش بندی ضروری ہے،ہمیں فوج کی مشاورت سے اقدامات کرنا ہوں گے۔مقامی حکومتیں جمہوریت کی روح ہے، مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ضروری ہے،این ایف سی ایوارڈ،قرضوں کی ادائیگی اور تعلیم سمیت تمام امورکواتفاق رائے سے آگے بڑھانا چاہئے۔
نعیمہ کشورخان نے کہا کہ ماضی میں ضم اضلاع کی سیٹوں میں کمی کی گئی تھی، ترامیم کے دوران ان اضلاع کی نشستوں میں اضافہ کیلئے اقدامات کرنے چاہئے تھے،اسی طرح مشیروں کی تعدادمیں اضافہ کے وقت خواتین کیلئے نشستوں میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں ہماری تجاویز کو شامل نہیں کیاگیاہے۔انہوں نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کے وقت ہمارے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمدکویقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ترامیم عوامی مفاد میں ہونا چاہییں۔پی پی پی کے مرزااختیاربیگ نے کہا کہ آئینی ترامیم ناگزیرہیں، زندہ قومیں اپنے ہیروزکویادرکھتی ہے، حالیہ پاک بھارت جنگ میں فیلڈمارشل عاصم منیراورافواج پاکستان نے جوکرداراداکیا اس پر پوری قوم کو فخرہے،ہمارے سپہ سالارکی دنیاتعریف کررہی ہے ہمیں کھلے دل سے ان کی خدمات کااعتراف کرنا چاہئے۔
ایم کیو ایم کے رکن سید حفیظ الدین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالتیں عوام کے لئے ضروری ہیں۔ ماورائے آئین اقدامات کو روکنے کے لئے یہ ترامیم ضروری تھیں،اپوزیشن اس ترمیم پر قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں نہیں آئی، میڈیا پر اور یہاں ایوان میں کھڑے ہوکر اب بات کررہی ہے،یہ سنجیدہ نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ 140 اے کی سب حمایت کررہے ہیں،پی ٹی آئی کو بھی اس کی حمایت کرنی چاہیے۔
یہ بہت اہم ترمیم تھی اس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بلاول بھٹو کی سوشل میڈیا پر پوسٹ سے 27 ویں ترمیم پر بحث کا آغاز ہوا۔سی ای سی میں اس کو زیر بحث لایا گیا،18 ویں ترمیم کو رول بیک کئے جانے کی تجاویز سے ہم نے اتفاق نہیں کیا۔صدر زرداری نے 11 سال جیل کاٹی،پاکستان سے جلاوطنی کی پیشکش سے اتفاق نہیں کیا، انہیں استثنٰی کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کے خلاف جنگ میں کامیابی کا کریڈٹ عاصم منیر کو جاتا ہے،فیلڈ مارشل کے لئے نیا عہدہ تخلیق کرنے کے عمل کو تنقید کی نظر نہ کیاجائے،انڈیا کسی وقت بھی جنگ مسلط کرسکتا ہے،افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے، ایسے وقت میں اس ترمیم پر تنقید نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے یہ تاثر کیوں دیا جارہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا جا رہا ہے۔
وہ آئینی معاملات کی سماعت کرے گی۔جس طرح انسداد دہشت گردی عدالتیں دہشت گردی سے متعلق کیسوں کی سماعت کرتی ہیں، اسی طرح یہ آئینی معاملات پر غور کرے گی۔ہم نے جانوں کی قربانی دی ہے اپوزیشن نے کیا قربانیاں دی ہیں،ہم آئین بنانے والے اور اسے بچانے والے ہیں۔جمیعت علماء اسلام کے رکن مصباح الدین نے کہاکہ 27 ترمیم کا بل عوام و جمہوریت کے مفاد میں نہیں۔
شفقت عباس نے کہا کہ ہر ملک میں آئین میں ترامیم ہوتی ہیں اس کا ایک طریقہ کار ہے،متعارف کرانے کے بعد مسودہ پر غور ہوتا ہے،اب اس میں عجلت کا مظاہرہ کیاجاتا ہے۔ایم کیو ایم کی رکن آسیہ اسحاق نے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں خودکش دھماکہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں،دہلی میں سی این جی دھماکہ کے چوبیس گھنٹے کے اندر خود کش حملہ ہوتا ہے،کیا اب بھی یہ نہیں کہا جائے گا کہ بھارت براہ راست یہاں دہشت گردی میں ملوث ہے۔اس دہشت گردی کے بعد چیف آف ڈیفنس کا عہدہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
اس لئے آرٹیکل 243 میں ترمیم اہمیت کی حامل ہے۔ عادل بازئی نے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں دھماکے کی مذمت کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے سے زیادہ بڑے ملک کو معرکہ حق میں شکست فاش دی،فیلڈ مارشل کو اگر چیف آف ڈیفنس بنایا جا رہا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
دنیا کے کئی ممالک میں صدر کو استثنٰی حاصل ہے۔عثمان اویسی نے کہا کہ مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا،اس آئینی ترامیم میں 243 میں ترمیم ضروری تھی تاکہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کے مسائل کے حل کے لئے اکھٹا ہونا ہوگا۔








