قومی اسمبلی کی ایک مذہبی سکالر کی طرف سے سوشل میڈیا پر سیدہ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق نامناسب انداز بیان کی مذمت

اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی نے ایک مذہبی سکالر کی طرف سے سوشل میڈیا پر سیدہ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق نامناسب انداز بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور صحابہ کرام، اہل بیت ‘ ازواج مطہرات اور برگزیدہ ہستیوں کی بارگاہ میں اشارہً‘ کنایتہً تحریراً ‘ تقریراً کسی بھی انداز میں بے ادبی و گستاخی کو قابل مذمت اور ناقابل …

اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی نے ایک مذہبی سکالر کی طرف سے سوشل میڈیا پر سیدہ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق نامناسب انداز بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور صحابہ کرام، اہل بیت ‘ ازواج مطہرات اور برگزیدہ ہستیوں کی بارگاہ میں اشارہً‘ کنایتہً تحریراً ‘ تقریراً کسی بھی انداز میں بے ادبی و گستاخی کو قابل مذمت اور ناقابل قبول قراردیتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے منافی‘ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کے متفقہ اعلامیہ و فتویٰ کے خلاف ورزی کا سنگین جرم قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے اور اس کے لئے موجودہ قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ ان قوانین میں ترامیم لاکر انہیں مزید سخت و موثر کرنے کی قرارداد کی متفقہ منظوری دیدی ہے۔ بدھ کوقومی اسمبلی میں پارلیمانی امورکے وزیرعلی محمدخان نے قواعدمعطل کرکے قرارداد پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ ایوان کی منظوری کے بعد پیپلزپارٹی کی شگفتہ جمانی نے قرارداد پیش کی۔ قراردادکے متن میں کہاگیاہے کہ یہ ایوان بارگاہ ام السادات‘ مخدوم کائنات دختر مصطفی خاتم النبیین ‘ ام الحسنین کریمین‘ سیدہ طیبہ‘ طاہرہ‘ راضیہ مرضیہ‘ خیرالنساءسیدہ فاطمہ البتول الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وسلام اللہ علیہا کی بارگاہ عالی مرتبت میں کروڑہا بار ہدیہ سلام عقیدت پیش کرتا ہے۔ حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ خاتم النبیین نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہونا ہے اور یہ خوشخبری دی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں اور امام حسن رضی اللہ عنہ و امام حسین رضی اللہ عنہ جنت کے تمام نوجوانوں کے سردار ہیں۔ رسول اکرم ﷺخاتم النبیین نے فرمایا فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ خاتم النبیین نے فرمایا بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔ حضرت ابو حنظلہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ خاتم النبیین نے فرمایا بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔ جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا۔ رسول اکرم ﷺ خاتم النبیین کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان نے فرمایا کہ رسول اکرمﷺ خاتم النبیین جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے تو وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں۔ ایک اور مشہور حدیث کے مطابق رسول اکرم ﷺ خاتم النبیین نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا و حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہا و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اکٹھا کیا اور فرمایا (الاحزاب 33) ترجمہ۔ ”بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہل بیت تجھ سے رجس کو دور کرے اور ایسے پاک کرے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۔“ یہ معزز ایوان ایک مذہبی سکالر کی طرف سے سوشل میڈیا پر سیدہ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق نامناسب انداز بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اس سے پوری امت کی دل آزاری تصور کرتا ہے۔ صحابہ کرام اہل بیت اطہار‘ ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم و علیھن اور برگزیدہ ہستیوں کی بارگاہ میں اشارہً‘ کنایتہً تحریراً ‘ تقریراً کسی بھی انداز میں بے ادبی و گستاخی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی‘ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کے متفقہ اعلامیہ و فتویٰ کے خلاف ورزی کا سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانا ناگزیر ہیں اس کے لئے موجودہ قوانین پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ ان قوانین میں ترامیم لاکر انہیں مزید سخت موثر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ توہین و اہانت کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو سکے۔ایوان نے قرارداد کی متفقہ منظوری دے دی۔

مزید خبریں