قومی اسمبلی کی خواتین پارلیمانی کاکس کا سالانہ رپورٹ 2024-25 کا باضابطہ اجرا

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی خواتین پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) نے رکن قومی اسمبلی کنوینئر سیدہ شاہدہ رحمانی کی قیادت اور اقوام متحدہ ویمن کے تعاون سے پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں اپنی سالانہ رپورٹ 2024–25 کا باضابطہ اجرا کیا۔ افتتاحی تقریب کی میزبانی سیکرٹری قومی اسمبلی سید شمعون ہاشمی نے کی۔ شرکاء نے خواتین کے حقوق کے فروغ، صنفی لحاظ سےبجٹ سازی اور خواتین پارلیمانی کاکس …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی خواتین پارلیمانی کاکس (ڈبلیو پی سی) نے رکن قومی اسمبلی کنوینئر سیدہ شاہدہ رحمانی کی قیادت اور اقوام متحدہ ویمن کے تعاون سے پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں اپنی سالانہ رپورٹ 2024–25 کا باضابطہ اجرا کیا۔ افتتاحی تقریب کی میزبانی سیکرٹری قومی اسمبلی سید شمعون ہاشمی نے کی۔

شرکاء نے خواتین کے حقوق کے فروغ، صنفی لحاظ سےبجٹ سازی اور خواتین پارلیمانی کاکس کے صوبائی و قانون ساز چیپٹرز کی مضبوطی کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔سالانہ رپورٹ 2024–25 میں خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے سال بھر کے دوران حاصل کی گئی نمایاں کامیابیوں، اقدامات اور درپیش چیلنجز کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ اپنے خطاب میں سیدہ شاہدہ رحمانی نے کاکس کے اراکین کی خدمات کو سراہا جنہوں نے صنفی حساس قانون سازی کے فروغ، صنفی امور پر پارلیمانی نگرانی کے استحکام اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کاکس کی رسائی میں توسیع کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صنفی حساس قانون سازی پارلیمانی ایجنڈے کا مرکزی جزو رہے گی۔ رپورٹ میں پاکستان کی پہلی کامن ویلتھ ویمن پارلیمنٹیرینز (CWP) ورکشاپ برائے صنفی حساس قانون سازی کے انعقاد کو بھی نمایاں کامیابی کے طور پر اجاگر کیا گیا، جس میں چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔رپورٹ پیش کرنے کے دوران متعدد اہم اقدامات کی نشاندہی کی گئی، جن میں چاروں صوبوں اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین پارلیمانی کاکس کے صوبائی و قانون ساز چیپٹرز کا قیام اور مضبوطی شامل ہے، جو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ممکن ہوا۔

دیگر اقدامات میں نیشنل ویمنز کنونشن 2025 (موضوع: بااختیار بنانے کے لیے متحدہ وژن)، صنفی جوابدہ بجٹ پر گول میز کانفرنسز اور 18ویں سپیکرز کانفرنس کے موقع پر منعقدہ کانفرنس “غربت کا چہرہ خواتین کا چہرہ ہے: صنفی مساوات اور غربت کے خاتمے کے لیے صنفی حساس قانون سازی” شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صنفی انصاف کے فروغ کے لیے صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 دن کی سرگرمیاں اور سیاسی شمولیت پر اعلیٰ سطحی مشاورتیں بھی منعقد کی گئیں۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے ہراسانی سے متعلق قوانین پر سخت جانچ پڑتال اور جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے فوری انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔

سینیٹر روبینہ قائم خانی نے ہراسانی قوانین کے جامع جائزے اور موجودہ خلا کو پُر کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کے قیام کی تجویز دی۔ ممبر قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے صنفی مساوات کے لیے غیر جانبدار نقطہ نظر اور والدین کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ منازہ حسن نے قومی، صوبائی اور قانون ساز اسمبلیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیا۔ ممبر قومی اسمبلی سمر ہارون بلور نے دہشت گردی اور سلامتی کے چیلنجز کے خواتین پر اثرات اورمسائل کو اجاگر کیا جبکہ معاشی و سلامتی فیصلوں میں خواتین قانون سازوں کی شمولیت کی حمایت کی۔

انہوں نے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں خواتین کے روزگار کے کوٹہ میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پارلیمانی و قانون ساز اداروں میں مستحق قانون اور سماجی علوم کے طلبہ کے لیے انٹرنشپس کی حمایت اور سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار اپنانے پر زور دیا، نیز WPC ورکنگ کونسل میں سینیٹ کی نمائندگی بڑھانے کی تجویز دی۔ممبر قومی اسمبلی فرخ خان نے پائیدار بااختیاری کے لیے مرد و خواتین کے درمیان صنفی توازن اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ سینیٹر خالدہ عتیب نے خواتین کے تحفظ، فلاح و بہبود اور بحالی سے متعلق قوانین کے مؤثر نفاذ پر زور دیا۔

ممبر قومی اسمبلی اسماء ارباب عالمگیر نے خواتین پارلیمنٹیرینز کے لیے مناسب فنڈز کی فراہمی اور کمزور خواتین و بچوں کے تحفظ کے لیے مخصوص سرکاری اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، رکن قومی اسمبلی محترمہ نعیمہ کشور خان نے خواتین کے تحفظ و فلاح کے لیے مضبوط قانون سازی کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور نشاندہی کی کہ بین الاقوامی صنفی برابری کی رپورٹس میں صوبائی ڈیٹا کو نظرانداز کیے جانے سے پاکستان کی درجہ بندی متاثر ہوتی ہے۔

ممبر قومی اسمبلی شمیلہ رانا نے نابالغ اور خواتین قیدیوں کے تحفظ و بحالی کے لیے قانون سازی اور WPC کے ساتھ منظم روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر شازیہ صوبیا اسلم سومرو، ایم این اے، نے قانون سازی کے خلا کو پُر کرنے اور تمام قانون ساز سطحوں پر خواتین کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

ممبر قومی اسمبلی ہما چغتائی نے خواتین کے مسائل کے حل کے لیے مربوط علاقائی نقطہ نظر، جنوبی ایشیائی علاقائی سیکرٹریٹ کے قیام اور خواتین کی قانونی عمل تک رسائی کے لیے اجتماعی اقدامات کی حمایت کی۔تقریب میں قومی اسمبلی کے اراکین، معزز سینیٹرز، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی نمائندگان اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔