قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ کا اجلاس بیرون ملک پاکستان کے بہتر تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی میڈیا پر ملک دشمن پراپیگنڈے کے خاتمے کے لئے اے پی پی کے کردار کو سراہا ادارہ کسی تعصب کے بغیر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو کوریج دے رہا ہے،بیرون ملک پاکستانی سفارت کاروں اور سفارت خانوں کے تعاون سے ملک دشمن پروپیگنڈے کا موثر …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ کا اجلاس بیرون ملک پاکستان کے بہتر تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی میڈیا پر ملک دشمن پراپیگنڈے کے خاتمے کے لئے اے پی پی کے کردار کو سراہا

مزید خبریں
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ کا اجلاس بیرون ملک پاکستان کے بہتر تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی میڈیا پر ملک دشمن پراپیگنڈے کے خاتمے کے لئے اے پی پی کے کردار کو سراہا
ادارہ کسی تعصب کے بغیر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو کوریج دے رہا ہے،بیرون ملک پاکستانی سفارت کاروں اور سفارت خانوں کے تعاون سے ملک دشمن پروپیگنڈے کا موثر توڑ کیا جا رہا ہے، ایم ڈی اے پی پی مسعود ملک
اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ نے بیرون ملک پاکستان کے بہتر تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی میڈیا پر ملک دشمن پراپیگنڈے کے خاتمے کے لئے قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو یہاں رکن قومی اسمبلی پیر محمد اسلم بودلہ کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی نے جدید آلات اور مواصلاتی ذرائع کے ساتھ ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ”اے پی پی“ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سہیل علی خان نے اجلاس کو اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور غیر ملکی نیوز ایجنسیز کو خبروں کی ترسیل سے متعلق میکنزم سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی مفاد سے متعلق ”اے پی پی“ مستند، جامع اور حقیقی کوریج دے رہی ہے۔ اردو اور انگریزی سروس کے ساتھ ساتھ پشتو، سرائیکی، براہوی، بلوچی، سندھی اور عربی زبان میں بھی خبریں دی جا رہی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی تقریبات، پارلیمانی اجلاسوں، سپورٹس، ثقافتی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد کے پروگراموں کو جامع کوریج دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو نیوز فیچرز، فوٹو اور ویڈیو فوٹیج بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ ”اے پی پی“ نے تحصیل اور ضلعی سطح پر اپنے نیٹ ورک کو توسیع دی ہے، ملک بھر میں اس کے 9 بیوروز اور 7 اسٹیشنز ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ واشنگٹن، لندن، نئی دہلی اور بیجنگ میں ”اے پی پی“ کے نمائندگان ہیں اور نیویارک، ڈھاکہ اور برسلز میں بھی نمائندے ہیں اور مختلف ممالک کے دارالحکومتوں بشمول انقرہ، دوبئی، تہران، جدہ، کابل، ماسکو اور کولمبو میں نمائندگان کو بھیجنے کی بھی تجویز ہے۔








