قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا 16واں اجلاس، چھوٹے شہروں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پرزور

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے اس بات پر زور دیاہے کہ وزارت آئی ٹی کو ملک بھر میں صنعتکاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے چھوٹے شہروں میں بھی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں ۔کمیٹی کا 16واں اجلاس بدھ کووزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے کمیٹی روم میں رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی زیر …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے اس بات پر زور دیاہے کہ وزارت آئی ٹی کو ملک بھر میں صنعتکاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے چھوٹے شہروں میں بھی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں ۔کمیٹی کا 16واں اجلاس بدھ کووزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے کمیٹی روم میں رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی نے اسلام آباد آئی ٹی پارک کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ یہ منصوبہ 31 اکتوبر 2025 تک مکمل ہونا تھا تاہم ابھی تک صرف 80 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ یہ تاخیر کوریا سے کنٹریکٹر اور کنسلٹنٹ کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوئی جس نے کام کی مجموعی رفتار پر نمایاں اثر ڈالا اور اس کے نتیجے میں تاخیر ہوئی۔ مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے اس منصوبے کو رواں سال کے اندر مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے واضح ہدایات جاری کی ہیں جس کے بعد کام کی رفتار کو تیز کر دیا گیا ہے

اور توقع ہے کہ یہ منصوبہ 31 دسمبر 2025 کی اپنی نظر ثانی شدہ ٹائم لائن کے اندر مکمل ہو جائے گا۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ وزارت کو ملک بھر میں صنعتکاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے چھوٹے شہروں میں بھی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ وزارت نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ نجی شعبے کے ذریعے چھوٹے شہروں میں خصوصی ٹیکنالوجی پارک متعارف کرائے جا رہے ہیں جس کے تحت ایسے منصوبوں کے قیام کے لئے بلاسود قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں، ان اقدامات کا مقصد کاروباری افراد اور مقامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا اور پسماندہ علاقوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینا ہے۔کمیٹی نے "ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 میں فحاشی اور بے حیائی کی روک تھام” کو اگلے اجلاس تک موخر کرنے کا فیصلہ کیاکیونکہ بل کا محرک موجود نہیں تھا۔ اجلاس میں بل کو آئندہ اجلاس میں زیر غور لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایم این اے ذوالفقار علی بھٹی کی کنوینئر شپ میں تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کی۔ قائمہ کمیٹی نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سفارشات کی توثیق کی۔ کمیٹی نے وزارت کو مزید ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ارکان قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی، احمد عتیق انور، عمار احمد خان لغاری، علی قاسم گیلانی، رانا ارادت، شازیہ، فرزانہ خان اور منسلک محکموں کے افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔